سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. باب في كراهية البزاق في المسجد
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
جناب مطرف اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 13 (554)، (تحفة الأشراف: 5348)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 34 (728)، مسند احمد (4/25، 26) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (554)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
728
| تنخع فدلكه برجله اليسرى |
صحيح مسلم |
1234
| تنخع فدلكها بنعله |
صحيح مسلم |
1235
| تنخع فدلكها بنعله اليسرى |
سنن أبي داود |
482
| بزق تحت قدمه اليسرى |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 482 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 482
482۔ اردو حاشیہ:
تھوک، بلغم اور ناک آنے سے نماز باطل نہیں ہوتی اور کچی زمین میں آدمی اپنے بائیں پاؤں سے مسل دے۔
تھوک، بلغم اور ناک آنے سے نماز باطل نہیں ہوتی اور کچی زمین میں آدمی اپنے بائیں پاؤں سے مسل دے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 482]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1235
حضرت ابو علاء یزید بن عبداللہ بن شخیر رحمتہ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوکا اور اسے اپنے بائیں جوتے سے مسل ڈالا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1235]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں تھوک وغیرہ کے دفن کرنے کا معنی ہے اس کو اپنے بائیں جوتے سے مسل دینا اس طرح اس کا ازالہ ہو جائے گا یہ معنی نہیں ہے کہ زمین کو کھودا جائے اور اس میں دفن کیا جائے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسجد میں تھوک وغیرہ کے دفن کرنے کا معنی ہے اس کو اپنے بائیں جوتے سے مسل دینا اس طرح اس کا ازالہ ہو جائے گا یہ معنی نہیں ہے کہ زمین کو کھودا جائے اور اس میں دفن کیا جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1235]
Sunan Abi Dawud Hadith 482 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن الشخير الحرشي