سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب في شكر المعروف
باب: نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4813
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ، أخبرنا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُثْنِ بِهِ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ" , قال أَبُو دَاوُد: رَوَاه يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ , عَنْ شُرَحْبِيلَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ شُرَحْبِيلُ، يَعْنِي رَجُلًا مِنْ قَوْمِي، كَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ فَلَمْ يُسَمُّوهُ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو کوئی چیز دی جائے پھر وہ بھی (دینے کے لیے کچھ) پا جائے تو چاہیئے کہ اس کا بدلہ دے، اور اگر بدلہ کے لیے کچھ نہ پائے تو اس کی تعریف کرے، اس لیے کہ جس نے اس کی تعریف کی تو گویا اس نے اس کا شکر ادا کر دیا، اور جس نے چھپایا (احسان کو) تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے یحییٰ بن ایوب نے عمارہ بن غزیہ سے، انہوں نے شرحبیل سے اور انہوں نے جابر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سند میں «رجل من قومی» سے مراد شرحبیل ہیں، گویا وہ انہیں ناپسند کرتے تھے، اس لیے ان کا نام نہیں لیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4813]
جناب عمارہ بن غزیہ نے بیان کیا کہ میری قوم کے ایک آدمی نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے کوئی عطیہ اور ہدیہ دیا جائے تو اگر ہمت ہو اور میسر ہو تو اس کا بدلہ دے اور اگر نہ پائے تو اس کی مدح و ثنا کرے۔ جس نے اپنے محسن کی مدح کی اس نے اس کا شکریہ ادا کیا اور جس نے اس (کے احسان) کو چھپایا اس نے اس کی ناشکری کی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس روایت کو یحییٰ بن ایوب نے بواسطہ عمارہ بن غزیہ، شرجیل سے اور اس نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سند میں عمارہ بن غزیہ نے جس آدمی کا نام لیا اور یوں کہا ہے کہ ”میری قوم کے ایک آدمی نے مجھ سے بیان کیا۔“ وہ شرجیل ہی ہے، گویا انہوں نے اس کا نام ذکر کرنا پسند نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2277) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شرحبيل بن سعد الأنصاري،شيخ عمارة : ’’ وثقه ابن حبان وضعفه جمهور الأئمة ‘‘ (مجمع الزوائد للهيثمي 115/4) ضعيف (تقدم : 2866)
وللحديث لون آخر عند الترمذي (2034) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
إسناده ضعيف
شرحبيل بن سعد الأنصاري،شيخ عمارة : ’’ وثقه ابن حبان وضعفه جمهور الأئمة ‘‘ (مجمع الزوائد للهيثمي 115/4) ضعيف (تقدم : 2866)
وللحديث لون آخر عند الترمذي (2034) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 167
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2034
| من أعطي عطاء فوجد فليجز به ومن لم يجد فليثن فإن من أثنى فقد شكر ومن كتم فقد كفر من تحلى بما لم يعطه كان كلابس ثوبي زور |
سنن أبي داود |
4813
| من أعطي عطاء فوجد فليجز به فإن لم يجد فليثن به فمن أثنى به فقد شكره ومن كتمه فقد كفره |
سنن أبي داود |
4814
| من أبلي بلاء فذكره فقد شكره وإن كتمه فقد كفره |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4813 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4813
فوائد ومسائل:
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک حسن ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4813]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4814
نیکی و احسان کا شکریہ ادا کرنے کا بیان۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4814]
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو کوئی چیز ملے اور وہ اس کا تذکرہ کرے تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اسے چھپایا تو اس نے ناشکری کی ۱؎۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4814]
فوائد ومسائل:
مناسب مقام اور مناسب انداز سے منعم اور محسن کے احسان کا ذکرِ خیر کرنا حق ہے اور قدر دانی میں شمار ہے۔
اس سے اُلفت بڑھتی ہے اور اس کے بر خلاف میں کبیدگی آتی ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں: (الصحیحة: حدیث: 618)
مناسب مقام اور مناسب انداز سے منعم اور محسن کے احسان کا ذکرِ خیر کرنا حق ہے اور قدر دانی میں شمار ہے۔
اس سے اُلفت بڑھتی ہے اور اس کے بر خلاف میں کبیدگی آتی ہے۔
یہ روایت بعض محقیقین کے نزدیک صحیح ہے۔
تفصیل کے لیئے دیکھیں: (الصحیحة: حدیث: 618)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4814]
Sunan Abi Dawud Hadith 4813 in Urdu
اسم مبهم ← جابر بن عبد الله الأنصاري