🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب في نقل الحديث
باب: راز کی باتوں کو افشاء کرنے کی ممانعت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4868
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ،عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَدَّثَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص کوئی بات کرے، پھر ادھر ادھر مڑ مڑ کر دیکھے تو وہ امانت ہے (اسے افشاء نہیں کرنا چاہیئے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4868]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی تم سے بات کرتے ہوئے ادھر ادھر سے چوکنا ہو رہا ہو (کہ کہیں کوئی سنتا تو نہیں) تو یہ بات امانت ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البر والصلة 39 (1959)، (تحفة الأشراف: 2384)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/324، 352، 379، 394) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5061)
أخرجه الترمذي (1959 وسنده حسن)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الملك بن جابر الأنصاري
Newعبد الملك بن جابر الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن أبي لبيبة القرشي، أبو محمد
Newعبد الرحمن بن أبي لبيبة القرشي ← عبد الملك بن جابر الأنصاري
مقبول
👤←👥محمد بن أبي ذئب العامري، أبو الحارث
Newمحمد بن أبي ذئب العامري ← عبد الرحمن بن أبي لبيبة القرشي
ثقة فقيه فاضل
👤←👥يحيى بن آدم الأموي، أبو زكريا
Newيحيى بن آدم الأموي ← محمد بن أبي ذئب العامري
ثقة حافظ فاضل
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يحيى بن آدم الأموي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1959
إذا حدث الرجل الحديث ثم التفت فهي أمانة
سنن أبي داود
4868
إذا حدث الرجل بالحديث ثم التفت فهي أمانة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4868 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4868
فوائد ومسائل:
مسلمان کو از حد دانا ہونا چاہیئے۔
جب آپ کا بھائی آپ سے بات کرتے ہوئے ادھر ادھر دیکھ رہا ہو تو یہ اشارہ ہوتا ہے کہ یہ خاص بات ہے جس کی آپ نے حفاظت کرنی ہے اور یہ امانت ہے، اسے آگے نقل نہیں ہونا چاہیئے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4868]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1959
مجلس کی باتیں امانت ہیں۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تم سے کوئی بات بیان کرے پھر (اسے راز میں رکھنے کے لیے) دائیں بائیں مڑ کر دیکھے تو وہ بات تمہارے پاس امانت ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1959]
اردو حاشہ: 1؎:
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص تم سے کوئی بات کہے اور کہتے ہوئے مڑ کر دائیں بائیں دیکھے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ راز کی بات ہے جو صرف تم سے ہورہی ہے کسی دوسرے کو اس کی خبر نہ ہو لہذا سننے والے کی امانت داری میں سے ہے کہ وہ اسے راز رکھے کیوں کہ یہ مجلس کے آداب میں سے ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1959]

Sunan Abi Dawud Hadith 4868 in Urdu