سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. باب ما جاء في الرجل يحل الرجل قد اغتابه
باب: اس شخص کا ذکر جس نے غیبت کرنے والے کو معاف کر دیا۔
حدیث نمبر: 4887
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ أَبِي ضَمْضَمٍ , قَالُوا: وَمَنْ أَبُو ضَمْضَمٍ، قَالَ: رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِمَعْنَاهُ , قَالَ: عِرْضِي لِمَنْ شَتَمَنِي" , قَالَ أَبُو دَاوُد:رَوَاهُ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَمِّيِّ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ حَمَّادٍ أَصَحُّ.
عبدالرحمٰن بن عجلان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ وہ ابوضمضم کی طرح ہو“ لوگوں نے عرض کیا: ابوضمضم کون ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا“ پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی، البتہ اس میں ( «عرضي على عبادك») کے بجائے ( «عرضي لمن شتمني») (میری آبرو اس شخص کے لیے صدقہ ہے جو مجھے برا بھلا کہے) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ہاشم بن قاسم نے روایت کیا وہ اسے محمد بن عبداللہ العمی سے، اور وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں، ثابت کہتے ہیں: ہم سے انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4887]
عبدالرحمٰن بن عجلان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی عاجز ہے کہ ابوضمضم کی طرح ہو جائے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”ابوضمضم کون ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے ایک آدمی ہو گزرا ہے“، اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، اس نے کہا: ”جس نے مجھے برا بھلا کہا ہو میری عزت اس کے لیے (صدقہ) ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس روایت کو ہاشم بن قاسم نے روایت کیا تو کہا: «عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَمِيِّ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » اور مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حماد کی روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4887]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 467، 19215) (ضعیف)» (اس کے ضعیف ہونے کی وجہ ارسال ہے، تابعی یعنی ابن عجلان نے واسطہ ذکر نہیں کیا، اور وہ خود مجہول الحال ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف مرسل
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن عجلان : أرسل حديثًا وھو مجهول الحال (تق: 3945)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن عجلان : أرسل حديثًا وھو مجهول الحال (تق: 3945)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 170
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4887
| عرضي لمن شتمني |
Sunan Abi Dawud Hadith 4887 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري