سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب في الانتصار
باب: بدلہ لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4897
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ وَسَاقَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , كَمَا قَالَ سُفْيَانُ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3168)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/342) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (5102)
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/436)
مشكوة المصابيح (5102)
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (2/436)
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4897 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4897
فوائد ومسائل:
مسلمان بھائی اگر کسی وقت تلخی میں آ جائے تو حتی الامکان صبر و حلم سے برداشت کرنا چاہیے۔
غلط باتوں کا جواب دینے کےلیے اللہ کے فرشتے مقرر ہیں۔
جب انسان از خود بدلہ لینے پر آجاتا ہے تو اللہ تعالی کی نصرت اور تائید ختم ہو جاتی ہے۔
مسلمان بھائی اگر کسی وقت تلخی میں آ جائے تو حتی الامکان صبر و حلم سے برداشت کرنا چاہیے۔
غلط باتوں کا جواب دینے کےلیے اللہ کے فرشتے مقرر ہیں۔
جب انسان از خود بدلہ لینے پر آجاتا ہے تو اللہ تعالی کی نصرت اور تائید ختم ہو جاتی ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4897]
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي