علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب في اللعن
باب: لعنت کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4908
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ. ح حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ زَيْدٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ، وَقَالَ مُسْلِمٌ: إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی (مسلم کی روایت میں اس طرح ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4908]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ہوا کو لعنت کی۔ اور مسلم (مسلم بن ابراہیم) کے الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوا سے ایک شخص کی چادر اڑ گئی تو اس نے اسے لعنت کر دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لعنت مت کرو، بلاشبہ یہ (اللہ کے حکم کی) پابند ہے۔ اور بلاشبہ جس نے کسی چیز کو لعنت کی جب کہ وہ اس کی حقدار نہ ہو، تو یہ لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 48 (1978)، (تحفة الأشراف: 5426، 18641) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1978)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
إسناده ضعيف
ترمذي (1978)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1978
| لا تلعن الريح فإنها مأمورة من لعن شيئا ليس له بأهل رجعت اللعنة عليه |
سنن أبي داود |
4908
| لا تلعنها فإنها مأمورة من لعن شيئا ليس له بأهل رجعت اللعنة عليه |
المعجم الصغير للطبراني |
722
| لا تلعنها فإنها مأمورة من لعن شيئا ليس له بأهل رجعت اللعنة إليه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4908 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4908
فوائد ومسائل:
اس روایت کو بھی بعض نے صحیح کہا ہے، لہذا اللہ کی مخلوق پر لعنت کرنا جائز نہیں سوائے ان کے جن پر اللہ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی۔
مثلاَ کافرین، ظالمین، کاذبین وغیرہ۔
جیسے کہ دُعائے قنوت نازلہ میں ہے: (اللَّهُمَّ الْعَنِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ) اے اللہ اُن کا فروں پر لعنت فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔
تیرے پیغمبروں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں۔
اس روایت کو بھی بعض نے صحیح کہا ہے، لہذا اللہ کی مخلوق پر لعنت کرنا جائز نہیں سوائے ان کے جن پر اللہ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی۔
مثلاَ کافرین، ظالمین، کاذبین وغیرہ۔
جیسے کہ دُعائے قنوت نازلہ میں ہے: (اللَّهُمَّ الْعَنِ الْكَفَرَةَ أَهْلَ الْكِتَابِ الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَيُقَاتِلُونَ أَوْلِيَاءَكَ) اے اللہ اُن کا فروں پر لعنت فرما جو تیرے راستے سے روکتے ہیں۔
تیرے پیغمبروں کو جھٹلاتے ہیں اور تیرے دوستوں سے لڑتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4908]
Sunan Abi Dawud Hadith 4908 in Urdu
زيد بن أخزم الطائي ← عبد الله بن العباس القرشي