سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
55. باب فِيمَنْ يَهْجُرُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ
باب: مسلمان بھائی سے ترک تعلق کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4912
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ , وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ أَخْبَرَهُمْ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلَاثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِ" زَادَ أَحْمَدُ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4912]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو حلال نہیں کہ کسی صاحب ایمان سے تین دن سے زیادہ مقاطعہ کرے۔ اگر تین دن گزر جائیں تو چاہیے کہ اس سے ملے اور اس کو سلام کہے۔ اگر وہ سلام کا جواب دے دے تو اجر و ثواب میں دونوں شریک ہو گئے۔ اگر وہ جواب نہ دے تو اس کا گناہ اسی دوسرے کے ذمے ہے۔“ احمد (احمد بن سعید سرخسی) نے مزید کہا: ”سلام کرنے والا مقاطعے کے گناہ سے نکل گیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14803)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/البر والصلة 8 (2561)، مسند احمد (2/392، 456) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ھلال مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
إسناده ضعيف
ھلال مستور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 171
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
6535
| لا هجرة بعد ثلاث |
سنن أبي داود |
4914
| لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث فمن هجر فوق ثلاث فمات دخل النار |
سنن أبي داود |
4912
| لا يحل لمؤمن أن يهجر مؤمنا فوق ثلاث ليلقه فليسلم عليه فإن رد فقد اشتركا في الأجر وإن لم يرد عليه فقد باء بالإثم |
المعجم الصغير للطبراني |
1159
| لا تقاطعوا ، ولا تدابروا ، ولا تباغضوا ، وكونوا عباد الله إخوانا ، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاثة أيام |
Sunan Abi Dawud Hadith 4912 in Urdu
هلال بن أبي هلال المذحجي ← أبو هريرة الدوسي