یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب في الرخصة في الجمع بينهما
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4967
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , وَأَبُو بَكْرٍ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ مُنْذِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَحِمَهُ اللَّهُ" قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ وُلِدَ لِي مِنْ بَعْدِكَ: وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ، وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ , قال: نَعَمْ" , وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے بیٹا پیدا ہو تو میں اس کا نام اور اس کی کنیت آپ کے نام اور آپ کی کنیت پر رکھوں؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4967]
جناب محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ کے بعد میرے ہاں بچہ پیدا ہو، تو کیا میں اس کا نام اور کنیت آپ کے نام اور کنیت پر رکھ سکتا ہوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ (راویِ حدیث) ابوبکر بن ابی شیبہ کے الفاظ میں «قُلْتُ» کا لفظ نہیں ہے، بلکہ یوں ہے کہ «قَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم » ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 68 (2843)، (تحفة الأشراف: 10267)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/95) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4772)
أخرجه الترمذي (2843 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4772)
أخرجه الترمذي (2843 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2843
| إن ولد لي بعدك أسميه محمدا وأكنيه بكنيتك قال نعم قال فكانت رخصة لي |
سنن أبي داود |
4967
| إن ولد لي من بعدك ولد أسميه باسمك وأكنيه بكنيتك قال نعم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4967 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4967
فوائد ومسائل:
اس واقعےسے نام اور کنیت دونوں کے رکھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
واللہ اعلم
اس واقعےسے نام اور کنیت دونوں کے رکھنے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
واللہ اعلم
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4967]
Sunan Abi Dawud Hadith 4967 in Urdu
محمد بن الحنفية الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي