سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب في الرخصة في الجمع بينهما
باب: محمد نام اور ابوالقاسم کنیت جمع کرنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4968
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ الْحَجَبِيُّ، عَنْ جَدَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ وَلَدْتُ غُلَامًا، فَسَمَّيْتُهُ مُحَمَّدًا، وَكَنَّيْتُهُ: أَبَا الْقَاسِمِ، فَذُكِرَ لِي أَنَّكَ تَكْرَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ: مَا الَّذِي أَحَلَّ اسْمِي، وَحَرَّمَ كُنْيَتِي، أَوْ مَا الَّذِي حَرَّمَ كُنْيَتِي، وَأَحَلَّ اسْمِي".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! میرے ایک لڑکا پیدا ہوا ہے، میں نے اس کا نام محمد اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھ دی ہے، تو مجھے بتایا گیا کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا سبب ہے کہ میرا نام رکھنا درست ہے اور کنیت رکھنا نا درست یا یوں فرمایا: کیا سبب ہے کہ میری کنیت رکھنا نا درست ہے اور نام رکھنا درست؟ ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4968]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی: ”اے اللہ کے رسول! میرے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام محمد اور کنیت ابوالقاسم رکھی ہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ میرا نام تو جائز ہو اور کنیت حرام۔“ یا فرمایا: ”کس چیز نے میری کنیت حرام ٹھہرا دی اور نام جائز کر دیا؟“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17856)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/135، 209) (ضعیف)»
وضاحت: ۱؎: اس سلسلہ میں علماء کا اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ ممانعت کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ تک ہے، اس کے بعد اگر کوئی آپ کا نام مع کنیت رکھتا ہے تو کچھ قباحت نہیں، بعض نے کہا کہ نام اور کنیت ایک ساتھ رکھنا منع ہے، کچھ کا کہنا ہے کہ ممانعت کا تعلق صرف کنیت سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عمران الحجبي مستور (تق: 6199)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
إسناده ضعيف
محمد بن عمران الحجبي مستور (تق: 6199)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 173
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥صفية بنت شيبة القرشية صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | لها رؤية | |
👤←👥محمد بن عمران الأنصاري محمد بن عمران الأنصاري ← صفية بنت شيبة القرشية | منكر الحديث | |
👤←👥عبد الله بن محمد القضاعي، أبو جعفر عبد الله بن محمد القضاعي ← محمد بن عمران الأنصاري | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
4968
| ما الذي أحل اسمي وحرم كنيتي أو ما الذي حرم كنيتي وأحل اسمي |
المعجم الصغير للطبراني |
651
| ما الذي أحل اسمي وحرم كنيتي وما الذي حرم كنيتي وأحل اسمي |
Sunan Abi Dawud Hadith 4968 in Urdu
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق