🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
96. باب فِي الرُّؤْيَا
باب: خواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5025
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ (کھجوریں) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5025]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے آج رات دیکھا گویا ہم عقبہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہیں اور ہمیں (مدینہ کی معروف عمدہ) تازہ کھجور «اِبْنُ طَابٍ» پیش کی گئی ہے۔ تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ہمیں دنیا میں رفعت و سربلندی حاصل ہو گی اور آخرت میں انجام عمدہ ہو گا اور ہمارا دین بھی خوب (پھل پھول گیا) ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الرؤیا 4 (2270)، (تحفة الأشراف: 316)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/286) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجورہے، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی۔
۲؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2270)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة
Newموسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5932
رأيت ذات ليلة فيما يرى النائم كأنا في دار عقبة بن رافع فأتينا برطب من رطب ابن طاب فأولت الرفعة لنا في الدنيا والعاقبة في الآخرة وأن ديننا قد طاب
سنن أبي داود
5025
رأيت الليلة كأنا في دار عقبة بن رافع وأتينا برطب من رطب ابن طاب فأولت أن الرفعة لنا في الدنيا والعاقبة في الآخرة وأن ديننا قد طاب
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5025 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5025
فوائد ومسائل:
خواب کی تعبیر میں بعض اوقات الفاظ ومناظرسے بھی معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔
تو مندرجہ بالا خواب میں لفظ عقبہ سے عاقبت (عمدہ انجام) رافع سے رفعت وسربلندی اور ابن طاب سے طیب اور عمدہ ہونا سمجھا گیا ہے۔
جو بحمد للہ ایک تاریخی حققیت ثابت ہوا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5025]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5932
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک رات میں نے خواب میں دیکھا،گویا کہ ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں تو ہمارے پاس ابن طاب کی تازہ کھجوروں میں سے کھجوریں لائی گئیں تو میں نے تعبیر لگائی،دنیا میں ہمارے لیے رفعت ہے اور آخرت میں اچھاانجام اور ہمارا دین پختہ اور مکمل ہوگیا ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5932]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
رطب ابن طاب:
ابن طاب کی ایک مدنی آدمی ہے،
جس کی طرف کھجوروں کی ایک قسم منسوب ہے،
جس کو مختلف نام دئیے جاتے تھے۔
رطب ابن طاب،
تمر ابن طاب،
عذق ابن طاب،
عرجون ابن طاب۔
فوائد ومسائل:
خواب کی تعبیر بیان کی مختلف صورتیں ہیں: 1۔
بعض دفعہ الفاظ سے اخذ کیا جاتا ہے،
جیسا کہ آپ نے عقبہ بن رافع کے گھر میں ہونے کی بنا پر،
رافع سے رفعت اور بلندی نکال لی،
عقبہ سے آخرت کا انجام اخذ کر لیا،
رُطب جو آہستہ آہستہ تدریجا پکتی ہے اور دل کے لیے شیریں اور سہل ہوتی ہیں،
شریعت اور دین کی تکمیل اخذ کر لی،
کیونکہ دین سہل اور آسان ہے اور آہستہ آہستہ پایہ تکمیل کو پہنچا ہے۔
2۔
خواب کی شکل و صورت سے ملتی جلتی صورت نکال لی جاتی ہے،
خواب میں کسی کو پڑھاتے دیکھا تو معلوم ہوا،
اگر صاحب علم ہے تو قاضی بنے گا،
اقتدار حاصل ہو گا،
اولاد ملے گی،
کسی محکمہ کا رئیس ہو گا۔
3۔
خواب میں نظر آنے والی چیز کا مقصد اور مراد کے مطابق تعبیر ہو گی،
سفر کر رہا ہے تو سفر درپیش ہو گا،
منڈی گیا ہے تو کمائی کرے گا،
گھر بنا رہا ہے تو شادی ہو گی یا خادمہ ملے گی۔
4۔
جس لفظ کا مصداق قرآن و سنت،
کلام عرب،
جاہلی اشعار،
حکیمانہ کلام یا لوگوں کے کلام میں معروف ہے،
وہی مراد ہو گا،
جیسے خشبیہ لکڑی کی تعبیر منافق ہے،
کیونکہ قرآن نے منافقوں کو خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ کہا ہے،
فارہ (چوہیا)
سے مراد فاسق ہو گا،
کیونکہ آپ نے اس کو فويسقة کا نام دیا ہے،
زجاجۃ سے مراد عورت ہے،
بعض شعروں میں عورت کو اس سے تعبیر کیا گیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قواریر کا نام دیا۔
(تکملہ ج 4 ص 461-462)
۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5932]

Sunan Abi Dawud Hadith 5025 in Urdu