🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

96. باب فِي الرُّؤْيَا
باب: خواب کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5017
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ زُفَرَ بْنِ صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، يَقُولُ: هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا، وَيَقُولُ: إِنَّهُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز فجر سے (سلام پھیر کر) پلٹتے تو پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرماتے: میرے بعد نیک خواب کے سوا نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہے گا ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5017]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز سے فارغ ہوتے تو دریافت فرمایا کرتے: کیا آج رات تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اور فرمایا کرتے تھے: بے شک میرے بعد نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں، سوائے اس کے کہ کسی کو کوئی نیک خواب آ جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12900، 13508)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ الرؤیا 1 (2)، مسند احمد (2/325) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی میری موت کے بعد وحی کا سلسلہ بند ہو جائے گا اور مستقبل کی جو باتیں وحی سے معلوم ہوتی تھیں اب صرف سچے خواب ہی کے ذریعہ جانی جا سکتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5018
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5018]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ التعبیر 2 (6987)، صحیح مسلم/ الرؤیا 2 (2264)، سنن الترمذی/ الرؤیا 1 (2271)، (تحفة الأشراف: 5069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/185، 5/316، 319)، دی/ الرؤیا 1 (2182) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس کا ایک مفہوم یہ ہے کہ مومن کا خواب صحیح اور سچ ہوتا ہے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت کی کامل مدت کل تیئس سال ہے اس میں سے شروع کے چھ مہینے جو مکہ کا ابتدائی دور ہے اس میں آپ کے پاس وحی (بحالت خواب نازل ہوتی تھی اور یہ مدت کل نبوی مدت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے گویا سچا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6987) صحيح مسلم (2264)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5019
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَكَدْ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ أَنْ تَكْذِبَ، وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ: فَالرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ بِهِ الْمَرْءُ نَفْسَهُ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يَكْرَهُ، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ، قَالَ: وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ" , قال أبو داود: إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ: يَعْنِي إِذَا اقْتَرَبَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ: يَعْنِي يَسْتَوِيَانِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمانہ قریب ہو جائے گا، تو مومن کا خواب جھوٹا نہ ہو گا، اور ان میں سب سے زیادہ سچا خواب اسی کا ہو گا، جو ان میں گفتگو میں سب سے سچا ہو گا، خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: بہتر اور اچھے خواب اللہ کی جانب سے خوشخبری ہوتے ہیں اور کچھ خواب شیطان کی طرف سے تکلیف و رنج کا باعث ہوتے ہیں، اور کچھ خواب آدمی کے دل کے خیالات ہوتے ہیں لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ناپسندیدہ بات دیکھے تو چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھ لے اور اسے لوگوں سے بیان نہ کرے، فرمایا: میں قید (پیر میں بیڑی پہننے) کو (خواب میں) پسند کرتا ہوں اور غل (گردن میں طوق) کو ناپسند کرتا ہوں ۱؎ اور قید (پیر میں بیڑی ہونے) کا مطلب دین میں ثابت قدم ہونا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب زمانہ قریب ہو جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جب رات اور دن قریب قریب یعنی برابر ہو جائیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5019]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب زمانہ قریب آ جائے گا، تو مسلمان کا خواب غالباً جھوٹا نہیں ہو گا اور سب سے سچا خواب اسی کا ہو گا جو بات چیت میں سب سے زیادہ سچا ہو گا۔ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں: اچھا خواب اللہ عزوجل کی جانب سے بشارت ہوتی ہے، اور ایک خواب شیطان کی طرف سے غمگین کرنے والا ہوتا ہے، اور ایک خواب بندے کے اپنے اوہام و خیالات ہوتے ہیں۔ تو جب کوئی خواب میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تو چاہیے کہ اٹھ کھڑا ہو، نماز پڑھے اور لوگوں سے اسے بیان نہ کرے۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں خواب میں پاؤں میں بیڑیاں دیکھنا پسند کرتا ہوں، جبکہ گلے میں طوق دیکھنا برا جانتا ہوں۔ پاؤں میں بیڑیاں دیکھنا دین میں ثابت قدمی کی علامت ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ’زمانہ قریب آ جانے‘ کا مفہوم یہ ہے کہ جب دن اور رات برابر برابر ہو جائیں (موسم بہار ہو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الرؤیا (2263)، سنن الترمذی/الرؤیا 1 (2270)، سنن الدارمی/الرؤیا 6 (2189)، (تحفة الأشراف: 14444)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التعبیر 26 (7071) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اس میں قرض دار رہنے یا کسی کے مظالم کا شکار بننے اور محکوم علیہ ہونے کی جانب اشارہ ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7017) صحيح مسلم (2263)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5020
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ عُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرُّؤْيَا عَلَى رِجْلِ طَائِرٍ مَا لَمْ تُعَبَّرْ فَإِذَا عُبِّرَتْ وَقَعَتْ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَلَا تَقُصَّهَا إِلَّا عَلَى وَادٍّ أَوْ ذِي رَأْيٍ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5020]
سیدنا ابورزین (لقیط بن صبرہ عقیلی) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواب (گویا) پرندے کے پاؤں پر ہے جب تک کہ اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے۔ چنانچہ جب تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو (وہ اسی طرح) ہو جاتی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنے کسی محبت کرنے والے (مخلص) یا صاحب علم کے علاوہ کسی سے ہرگز بیان نہ کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الرؤیا 6 (2278)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 6 (3914)، (تحفة الأشراف: 11174)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/10، 11، 12، 13) سنن الدارمی/الرؤیا 11 (2194) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی تعبیر بیان کئے جانے تک اس خواب کے لئے جائے قرار اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4622)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5021
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زُهَيْرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ لِيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5021]
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اچھا خواب اللہ عزوجل کی طرف سے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص کوئی ناپسند چیز دیکھے تو چاہیے کہ اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ بلاشبہ وہ (خواب) اسے ضرر نہیں پہنچائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5021]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الطب 39 (5747)، التعبیر 3 (6984)، 10 (6995)، 14 (7005)، 46 (7044)، صحیح مسلم/الرؤیا ح 1 (2661)، سنن الترمذی/الرؤیا 5 (2277)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 3 (3909)، موطا امام مالک/الرؤیا 1 (4)، مسند احمد (5/296، 303، 304، 305، 309)، سنن الدارمی/الرؤیا 5 (2187)، (تحفة الأشراف: 12135) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6984) صحيح مسلم (2261)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5022
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْهَمْدَانِيُّ , وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الرُّؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا، وَيَتَحَوَّلُ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوکے تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرے، اور اپنے اس پہلو کو بدل دے جس پر وہ تھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5022]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو اسے چاہیے کہ اپنی بائیں جانب تھوک دے، اور تین بار شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ طلب کرے، اور اپنی کروٹ بدل لے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5022]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الرؤیا ح 2 (2262)، سنن ابن ماجہ/تعبیرالرؤیا 4 (2908)، (تحفة الأشراف: 2907)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/350) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2262)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5023
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ، أَوْ لَكَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ، وَلَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو وہ مجھے جاگتے ہوئے بھی عنقریب دیکھے گا، یا یوں کہا کہ گویا اس نے مجھے جاگتے ہوئے دیکھا، اور شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5023]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ عنقریب مجھے جاگتے میں بھی دیکھے گا، یا فرمایا کہ اس نے گویا مجھے جاگتے میں دیکھا۔ اور شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 38 (110)، الأدب 109 (6197)، التعبیر 10 (6993)، صحیح مسلم/الرؤیا 1 (2266)، (تحفة الأشراف: 15310)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا 2 (3901)، مسند احمد (1 /231، 342، 410، 411، 425، 463) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6993) صحيح مسلم (2266)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5024
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ بِهِ مِنْهُ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی تصویر بنائے گا، اس کی وجہ سے اسے (اللہ) قیامت کے دن عذاب دے گا یہاں تک کہ وہ اس میں جان ڈال دے، اور وہ اس میں جان نہیں ڈال سکتا، اور جو جھوٹا خواب بنا کر بیان کرے گا اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ وہ جَو میں گرہ لگائے ۱؎ اور جو ایسے لوگوں کی بات سنے گا جو اسے سنانا نہیں چاہتے ہیں، تو اس کے کان میں قیامت کے دن سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5024]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ اسے اس کی وجہ سے قیامت میں عذاب دے گا، حتیٰ کہ وہ اس میں روح پھونکے، مگر وہ نہیں پھونک سکے گا اور جس نے جھوٹے طور پر یہ دعویٰ کیا کہ اس نے یہ خواب دیکھا ہے تو اسے اس بات کا مکلف کیا جائے گا کہ جو کے دانے میں گرہ باندھے (جو کہ ناممکن ہے) اور جس نے کسی قوم کی بات سننے کی کوشش کی جبکہ وہ اپنی بات کرنے کے لیے اس سے دور ہو رہے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کان میں سیسہ ڈالا جائے گا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5024]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/التعبیر 45 (7042)، سنن الترمذی/اللباس 19 (1751)، الرؤیا 8 (2283)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 59 (5361)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا 8 (3916)، (تحفة الأشراف: 5586)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/216، 241، 146، 350، 359، 360) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اور وہ یہ نہیں کر سکے گا کیونکہ جَو میں گرہ لگانا ممکن نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (7042)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5025
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ كَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ، وَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ، وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دیکھا جیسے ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہوں، اور ہمارے پاس ابن طاب ۱؎ کی رطب تازہ (کھجوریں) لائی گئیں، تو میں نے یہ تعبیر کی کہ دنیا میں بلندی ہمارے واسطے ہے اور آخرت کی عاقبت ۲؎ بھی اور ہمارا دین سب سے عمدہ اور اچھا ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5025]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آج رات دیکھا گویا ہم عقبہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے گھر میں ہیں اور ہمیں (مدینہ کی معروف عمدہ) تازہ کھجور «اِبْنُ طَابٍ» پیش کی گئی ہے۔ تو میں نے اس کی یہ تعبیر کی ہے کہ ہمیں دنیا میں رفعت و سربلندی حاصل ہو گی اور آخرت میں انجام عمدہ ہو گا اور ہمارا دین بھی خوب (پھل پھول گیا) ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَدَبِ/حدیث: 5025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الرؤیا 4 (2270)، (تحفة الأشراف: 316)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/286) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجورہے، اس سے دین کی عمدگی اور پاکی نکلی رافع کے لفظ سے دنیا میں رفعت اور بلندی۔
۲؎: اور عقبہ عاقبت کی بھلائی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2270)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں