سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب في الرجل يستاك بسواك غيره
باب: دوسرے کی مسواک استعمال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ بَيْتَهُ؟ قَالَتْ:" بِالسِّوَاكِ".
شریح کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کس چیز سے ابتداء فرماتے؟ فرمایا: مسواک سے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 51]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الطھارة 15 (253)، سنن النسائی/الطھارة 8 (8)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 7 (290)، (تحفة الأشراف: 16144)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/42، 110، 182، 188) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (253)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
51
| بالسواك |
صحيح مسلم |
590
| بالسواك |
صحيح مسلم |
591
| بدأ بالسواك |
سنن ابن ماجه |
290
| يبدأ بالسواك |
سنن النسائى الصغرى |
8
| بالسواك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 51 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 51
فوائد و مسائل:
راہ چلتے، گھومتے پھرتے مسواک کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں سے نہ تھا جیسے کہ آج کل لوگوں میں دیکھا جاتا ہے۔
راہ چلتے، گھومتے پھرتے مسواک کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات میں سے نہ تھا جیسے کہ آج کل لوگوں میں دیکھا جاتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 51]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 8
ہر وقت مسواک کرنے کا بیان۔
شریح کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے؟ انہوں نے کہا: مسواک سے (پہل کرتے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
شریح کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تو کون سا کام پہلے کرتے؟ انہوں نے کہا: مسواک سے (پہل کرتے) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
8۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ باب پچھلے باب کا تسلسل بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جب بھی گھر تشریف لاتے، مسواک کرتے۔ ظاہر ہے آپ اکثر روزہ دار ہوتے تھے، لہٰذا روزہ دار ہر وقت مسواک کر سکتا ہے۔
➋ ”ہر وقت میں“ عرفی استغراق (عموم) ہے نہ کہ حقیقی۔ ورنہ بہت سے اوقات عقلاً و شرعاً مستثنیٰ ہیں، مثلاً: نماز و قرأت کے درمیان، کھانا کھاتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے اور قضائے حاجت وغیرہ کے دوران میں وغیرہ۔ واللہ أعلم۔
➊ یہ باب پچھلے باب کا تسلسل بھی ہو سکتا ہے کہ آپ جب بھی گھر تشریف لاتے، مسواک کرتے۔ ظاہر ہے آپ اکثر روزہ دار ہوتے تھے، لہٰذا روزہ دار ہر وقت مسواک کر سکتا ہے۔
➋ ”ہر وقت میں“ عرفی استغراق (عموم) ہے نہ کہ حقیقی۔ ورنہ بہت سے اوقات عقلاً و شرعاً مستثنیٰ ہیں، مثلاً: نماز و قرأت کے درمیان، کھانا کھاتے ہوئے، باتیں کرتے ہوئے اور قضائے حاجت وغیرہ کے دوران میں وغیرہ۔ واللہ أعلم۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 8]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث290
مسواک کا بیان۔
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں آپ کے پاس جاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جب بھی آتے تھے پہلے مسواک کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 290]
شریح بن ہانی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر میں آپ کے پاس جاتے تھے تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ جب بھی آتے تھے پہلے مسواک کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 290]
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اوقات کے علاوہ بھی مسواک کا اہتمام فرماتے تھے۔
(2)
بعض فقہاء نے کچھ ایسی شرائط لگائی ہیں جو کسی دلیل سے ثابت نہیں، مثلاً مسواک کا ایک بالشت ہونا یا پانی کے بغیر مسواک نہ کرنا وغیرہ۔
(1)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اوقات کے علاوہ بھی مسواک کا اہتمام فرماتے تھے۔
(2)
بعض فقہاء نے کچھ ایسی شرائط لگائی ہیں جو کسی دلیل سے ثابت نہیں، مثلاً مسواک کا ایک بالشت ہونا یا پانی کے بغیر مسواک نہ کرنا وغیرہ۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 290]
Sunan Abi Dawud Hadith 51 in Urdu
شريح بن هانئ الحارثي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق