علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. باب في الرجل يستعيذ من الرجل
باب: آدمی آدمی سے اللہ کا نام لے کر پناہ مانگے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 5108
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ , وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ , قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ نَصْرٌ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ , عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَعْطُوهُ" , قال عُبَيْدُ اللَّهِ: مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص لوجہ اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی کا حوالہ دے کر) سوال کرے تو اس کو دو“۔ عبیداللہ کی روایت میں «من سألكم لوجه الله» کے بجائے «من سألكم بالله» ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5108]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے نام پر پناہ طلب کرے اسے پناہ دو اور جو تم سے اللہ کے چہرے کے واسطے سے سوال کرے اس کو دو۔“ عبیداللہ کے الفاظ ہیں: «مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللّٰهِ» ”جو تم سے اللہ کے واسطے سے سوال کرے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5108]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 6572)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/249، 250) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
إسناده ضعيف
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 177
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5108
| من استعاذ بالله فأعيذوه من سألكم بوجه الله فأعطوه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5108 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5108
فوائد ومسائل:
اس میں ترغیب یہ ہے کہ مانگنے والے نے جس عظیم ذات کا واسطہ دیا ہے۔
اس کے نام کا لحاظ کرتے ہوئے جو کچھ تم سے ہو سکتا ہے۔
اس میں بخل نہ کرو۔
بعض محققین نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔
دیکھیئے۔
(الصحیحة، حدیث: 253)
اس میں ترغیب یہ ہے کہ مانگنے والے نے جس عظیم ذات کا واسطہ دیا ہے۔
اس کے نام کا لحاظ کرتے ہوئے جو کچھ تم سے ہو سکتا ہے۔
اس میں بخل نہ کرو۔
بعض محققین نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔
دیکھیئے۔
(الصحیحة، حدیث: 253)
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5108]
Sunan Abi Dawud Hadith 5108 in Urdu
عثمان بن نهيك الأزدي ← عبد الله بن العباس القرشي