سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ
باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت (تکبیر) کہے یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 514
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ، أَمَرَنِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ يَعْنِي فَتَوَضَّأَ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ، قَالَ: فَأَقَمْتُ".
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ”ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے)“، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے“۔ زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 514]
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے اذان کہی۔ پھر میں کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟“ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی جانب فجر کو دیکھتے اور فرماتے: ”نہیں۔“ حتیٰ کہ جب فجر (اچھی طرح) طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آئے اور اس اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی آپ کو آ ملے (برز سے مراد ہے)، آپ نے وضو کیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس صدائی نے اذان کہی ہے اور جو اذان کہے وہی اقامت کہے۔“ چنانچہ میں نے اقامت کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 32 (199)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (717)، (تحفة الأشراف: 3653)، مسند احمد (4/169) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (199) ابن ماجه (717)
الإ فريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
إسناده ضعيف
ترمذي (199) ابن ماجه (717)
الإ فريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
199
| من أذن فهو يقيم |
سنن أبي داود |
514
| من أذن فهو يقيم قال فأقمت |
سنن ابن ماجه |
717
| من أذن فهو يقيم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 514 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 514
514۔ اردو حاشیہ:
اس باب کی مذکورہ تینوں روایتیں ضعیف ہیں۔ اس لئے ان سے کسی مسئلے کا اثبات نہیں ہوتا۔ لیکن بعض شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ موذن ہی اقامت کہے تو مناسب ہے تاہم اگر دوسرا اقامت کہے تو کوئی حرج نہیں۔ [عون المعبود۔ نيل الأوطار]
اس باب کی مذکورہ تینوں روایتیں ضعیف ہیں۔ اس لئے ان سے کسی مسئلے کا اثبات نہیں ہوتا۔ لیکن بعض شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ موذن ہی اقامت کہے تو مناسب ہے تاہم اگر دوسرا اقامت کہے تو کوئی حرج نہیں۔ [عون المعبود۔ نيل الأوطار]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 514]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ترمذی 199
کیا اذان کہنے والا ہی اقامت کہے گا ؟
➊ حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أذن فـهـو يـقـيـم» ”جو اذان دے وہی اقامت کہے۔“
[ضعيف: ضعيف أبو داود 102، كتاب الصلاة: باب فى الرجل يؤذن ويقيم آخر، ضعيف الجامع 1377، ضعيف ترمذى 32، الضعيفة 35، أبو داود 514، أحمد 169/4، ترمذي 199، ابن ماحة 717، بيهقي 39931]
➋ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اذان کو میں نے خواب میں دیکھا تھا لہذا میری تمنا تھی کہ مجھے مؤذن مقرر کیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فاقم أنت» ”تم اقامت کہو۔“
[ضعيف: ضعيف أبو داود 100، أيضا، أبو داود 512، بيهقى 399/1، أحمد 42/4، اس كي سند ميں محمد بن عمر و واقعي انصاري راوي ضعيف هے۔ تهذيب الكمال 221/26، تقريب التهذيب 196/2، الكامل 79/3]
پہلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان دینے والا ہی اقامت کہے لیکن وہ ضعیف ہے اور دوسری حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مؤذن کے علاوہ دوسرا شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے لیکن وہ بھی ضعیف ہے لہذا چونکہ اصل اباحت ہے اس لیے مؤذن کے علاوہ کسی اور کا اقامت کہنا جائز ہے۔
(حافظ حازمیؒ) اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اذان اور اقامت الگ الگ اشخاص کہیں تو جائز ہے۔ [الاعتبار ص/195-196]
علماء نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے کہ اذان دینے والے کا اقامت کہنا بہتر ہے یا کہ کسی دوسرے کا اقامت کہنا زیادہ افضل ہے۔
(مالکؒ، ابو حنیفہؒ) ان دونوں میں کوئی فرق نہیں اور نہ ہی کوئی کسی سے بہتر و اولی ہے۔
(شافعیؒ، احمدؒ) اذان دینے والے کا اقامت کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس میں واضح حدیث ہے۔ «ومن أذن فهو يقيم»
[شرح المهذب 129/3، الخرشي على مختصر سيدي خليل 235/1، المغني 71/2، نيل الأوطار 525/1، تحفة الأحوذي 622/1]
(راجح) چونکہ دونوں احادیث ضعیف ہیں اس لیے دونوں طرح ہی بہتر ہے البتہ اس مصلحت کے پیش نظر کہ جو اذان دیتا ہے اگر وہی اقامت کہے گا تو اس سے نظم و ضبط رہتا ہے، یہ عمل ہی بہتر ہے۔ «والله اعلم»
(شوکانیؒ) اذان دینے والے کا اقامت کہنا ہی بہتر ہے۔ [نيل الأوطار 525/1]
(عبدالرحمٰن مبارکپوریؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [تحفة الأحوذى 623/1]
(امیر صنعانیؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [سبل السلام 180/1]
➊ حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أذن فـهـو يـقـيـم» ”جو اذان دے وہی اقامت کہے۔“
[ضعيف: ضعيف أبو داود 102، كتاب الصلاة: باب فى الرجل يؤذن ويقيم آخر، ضعيف الجامع 1377، ضعيف ترمذى 32، الضعيفة 35، أبو داود 514، أحمد 169/4، ترمذي 199، ابن ماحة 717، بيهقي 39931]
➋ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اذان کو میں نے خواب میں دیکھا تھا لہذا میری تمنا تھی کہ مجھے مؤذن مقرر کیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فاقم أنت» ”تم اقامت کہو۔“
[ضعيف: ضعيف أبو داود 100، أيضا، أبو داود 512، بيهقى 399/1، أحمد 42/4، اس كي سند ميں محمد بن عمر و واقعي انصاري راوي ضعيف هے۔ تهذيب الكمال 221/26، تقريب التهذيب 196/2، الكامل 79/3]
پہلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان دینے والا ہی اقامت کہے لیکن وہ ضعیف ہے اور دوسری حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مؤذن کے علاوہ دوسرا شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے لیکن وہ بھی ضعیف ہے لہذا چونکہ اصل اباحت ہے اس لیے مؤذن کے علاوہ کسی اور کا اقامت کہنا جائز ہے۔
(حافظ حازمیؒ) اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اذان اور اقامت الگ الگ اشخاص کہیں تو جائز ہے۔ [الاعتبار ص/195-196]
علماء نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے کہ اذان دینے والے کا اقامت کہنا بہتر ہے یا کہ کسی دوسرے کا اقامت کہنا زیادہ افضل ہے۔
(مالکؒ، ابو حنیفہؒ) ان دونوں میں کوئی فرق نہیں اور نہ ہی کوئی کسی سے بہتر و اولی ہے۔
(شافعیؒ، احمدؒ) اذان دینے والے کا اقامت کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس میں واضح حدیث ہے۔ «ومن أذن فهو يقيم»
[شرح المهذب 129/3، الخرشي على مختصر سيدي خليل 235/1، المغني 71/2، نيل الأوطار 525/1، تحفة الأحوذي 622/1]
(راجح) چونکہ دونوں احادیث ضعیف ہیں اس لیے دونوں طرح ہی بہتر ہے البتہ اس مصلحت کے پیش نظر کہ جو اذان دیتا ہے اگر وہی اقامت کہے گا تو اس سے نظم و ضبط رہتا ہے، یہ عمل ہی بہتر ہے۔ «والله اعلم»
(شوکانیؒ) اذان دینے والے کا اقامت کہنا ہی بہتر ہے۔ [نيل الأوطار 525/1]
(عبدالرحمٰن مبارکپوریؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [تحفة الأحوذى 623/1]
(امیر صنعانیؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [سبل السلام 180/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 339]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث717
اذان کی سنتوں کا بیان۔
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، (پھر جب نماز کا وقت ہوا) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صداء کے بھائی (زیاد بن حارث صدائی) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 717]
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، (پھر جب نماز کا وقت ہوا) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صداء کے بھائی (زیاد بن حارث صدائی) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 717]
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ مؤذن ہی تکبیر کہے تاہم ہماری مساجد کی بالعموم جو صورت حال ہے اس کے پیش نظر مصلحت کا تقاضہ یہی ہے کہ مؤذن ہی کو تکبیر کہنے کا پابند کیا جائےتاکہ انتشارکا دروازہ نہ کھلے۔
چونکہ دیکھنے میں یہ آیا ہےکہ نمازی اکثر شوق تکبیر میں ایک دوسرے سے الجھتے ہیں جو بعض دفعہ نزاع وجدال کی صورت اختیار کرلیتا ہے بناء بریں انتظامی مصلحت کے تحت مؤذن ہی کو تکبیر کا پابند بنا دینا نہایت مناسب بات ہے گو شرعاً یہ ضروری نہیں ہے۔
فائدہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ مؤذن ہی تکبیر کہے تاہم ہماری مساجد کی بالعموم جو صورت حال ہے اس کے پیش نظر مصلحت کا تقاضہ یہی ہے کہ مؤذن ہی کو تکبیر کہنے کا پابند کیا جائےتاکہ انتشارکا دروازہ نہ کھلے۔
چونکہ دیکھنے میں یہ آیا ہےکہ نمازی اکثر شوق تکبیر میں ایک دوسرے سے الجھتے ہیں جو بعض دفعہ نزاع وجدال کی صورت اختیار کرلیتا ہے بناء بریں انتظامی مصلحت کے تحت مؤذن ہی کو تکبیر کا پابند بنا دینا نہایت مناسب بات ہے گو شرعاً یہ ضروری نہیں ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 717]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 199
جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 199]
زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 199]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث ضعیف ہے،
اس لیے اس کی بنا پر مساجد میں جھگڑے مناسب نہیں،
اگر صحیح بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ مستحب کہہ سکتے ہیں،
اور مستحب کے لیے مسلمانوں میں جھگڑے زیبا نہیں۔
نوٹ:
(سند میں عبدالرحمن بن انعم افریقی ضعیف ہیں)
1؎:
یہ حدیث ضعیف ہے،
اس لیے اس کی بنا پر مساجد میں جھگڑے مناسب نہیں،
اگر صحیح بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ مستحب کہہ سکتے ہیں،
اور مستحب کے لیے مسلمانوں میں جھگڑے زیبا نہیں۔
نوٹ:
(سند میں عبدالرحمن بن انعم افریقی ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 199]
Sunan Abi Dawud Hadith 514 in Urdu
زياد بن نعيم الحضرمي ← زياد بن الحارث الصدائي