🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب : السنة في الأذان
باب: اذان کی سنتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 717
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الِإفْرِيقِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ".
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، (پھر جب نماز کا وقت ہوا) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صداء کے بھائی (زیاد بن حارث صدائی) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 717]
حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے اذان دی۔ (جماعت کے وقت) حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ بنو صداء کے آدمی نے اذان دی ہے اور جو کوئی اذان دے وہی اقامت کہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 717]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابی داود/الصلاة 30 (514)، سنن الترمذی/الصلاة 32 (199)، (تحفة الأشراف: 3653)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/169) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: 0 337)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (514(ترمذي (199)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 404

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زياد بن الحارث الصدائيصحابي
👤←👥زياد بن نعيم الحضرمي
Newزياد بن نعيم الحضرمي ← زياد بن الحارث الصدائي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن زياد الإفريقي، أبو خالد، أبو أيوب
Newعبد الرحمن بن زياد الإفريقي ← زياد بن نعيم الحضرمي
ضعيف الحديث
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف
Newيعلى بن عبيد الطناقسي ← عبد الرحمن بن زياد الإفريقي
ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← يعلى بن عبيد الطناقسي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
199
من أذن فهو يقيم
سنن أبي داود
514
من أذن فهو يقيم قال فأقمت
سنن ابن ماجه
717
من أذن فهو يقيم
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 717 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث717
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے اس لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ مؤذن ہی تکبیر کہے تاہم ہماری مساجد کی بالعموم جو صورت حال ہے اس کے پیش نظر مصلحت کا تقاضہ یہی ہے کہ مؤذن ہی کو تکبیر کہنے کا پابند کیا جائےتاکہ انتشارکا دروازہ نہ کھلے۔
چونکہ دیکھنے میں یہ آیا ہےکہ نمازی اکثر شوق تکبیر میں ایک دوسرے سے الجھتے ہیں جو بعض دفعہ نزاع وجدال کی صورت اختیار کرلیتا ہے بناء بریں انتظامی مصلحت کے تحت مؤذن ہی کو تکبیر کا پابند بنا دینا نہایت مناسب بات ہے گو شرعاً یہ ضروری نہیں ہے۔
  
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 717]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 514
ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت (تکبیر) کہے یہ جائز ہے۔
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے)، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے۔‏‏‏‏ زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 514]
514۔ اردو حاشیہ:
اس باب کی مذکورہ تینوں روایتیں ضعیف ہیں۔ اس لئے ان سے کسی مسئلے کا اثبات نہیں ہوتا۔ لیکن بعض شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ موذن ہی اقامت کہے تو مناسب ہے تاہم اگر دوسرا اقامت کہے تو کوئی حرج نہیں۔ [عون المعبود۔ نيل الأوطار]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 514]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 199
جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
زیاد بن حارث صدائی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فجر کی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی، پھر بلال رضی الله عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 199]
اردو حاشہ:
1؎:
یہ حدیث ضعیف ہے،
اس لیے اس کی بنا پر مساجد میں جھگڑے مناسب نہیں،
اگر صحیح بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ مستحب کہہ سکتے ہیں،
اور مستحب کے لیے مسلمانوں میں جھگڑے زیبا نہیں۔

نوٹ:

(سند میں عبدالرحمن بن انعم افریقی ضعیف ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 199]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ترمذی 199
کیا اذان کہنے والا ہی اقامت کہے گا ؟
➊ حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من أذن فـهـو يـقـيـم» جو اذان دے وہی اقامت کہے۔
[ضعيف: ضعيف أبو داود 102، كتاب الصلاة: باب فى الرجل يؤذن ويقيم آخر، ضعيف الجامع 1377، ضعيف ترمذى 32، الضعيفة 35، أبو داود 514، أحمد 169/4، ترمذي 199، ابن ماحة 717، بيهقي 39931]
➋ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اذان کو میں نے خواب میں دیکھا تھا لہذا میری تمنا تھی کہ مجھے مؤذن مقرر کیا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فاقم أنت» تم اقامت کہو۔
[ضعيف: ضعيف أبو داود 100، أيضا، أبو داود 512، بيهقى 399/1، أحمد 42/4، اس كي سند ميں محمد بن عمر و واقعي انصاري راوي ضعيف هے۔ تهذيب الكمال 221/26، تقريب التهذيب 196/2، الكامل 79/3]
پہلی حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان دینے والا ہی اقامت کہے لیکن وہ ضعیف ہے اور دوسری حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مؤذن کے علاوہ دوسرا شخص بھی اقامت کہہ سکتا ہے لیکن وہ بھی ضعیف ہے لہذا چونکہ اصل اباحت ہے اس لیے مؤذن کے علاوہ کسی اور کا اقامت کہنا جائز ہے۔
(حافظ حازمیؒ) اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اذان اور اقامت الگ الگ اشخاص کہیں تو جائز ہے۔ [الاعتبار ص/195-196]
علماء نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے کہ اذان دینے والے کا اقامت کہنا بہتر ہے یا کہ کسی دوسرے کا اقامت کہنا زیادہ افضل ہے۔
(مالکؒ، ابو حنیفہؒ) ان دونوں میں کوئی فرق نہیں اور نہ ہی کوئی کسی سے بہتر و اولی ہے۔
(شافعیؒ، احمدؒ) اذان دینے والے کا اقامت کہنا ہی بہتر ہے کیونکہ اس میں واضح حدیث ہے۔ «ومن أذن فهو يقيم»
[شرح المهذب 129/3، الخرشي على مختصر سيدي خليل 235/1، المغني 71/2، نيل الأوطار 525/1، تحفة الأحوذي 622/1]
(راجح) چونکہ دونوں احادیث ضعیف ہیں اس لیے دونوں طرح ہی بہتر ہے البتہ اس مصلحت کے پیش نظر کہ جو اذان دیتا ہے اگر وہی اقامت کہے گا تو اس سے نظم و ضبط رہتا ہے، یہ عمل ہی بہتر ہے۔ «والله اعلم»
(شوکانیؒ) اذان دینے والے کا اقامت کہنا ہی بہتر ہے۔ [نيل الأوطار 525/1]
(عبدالرحمٰن مبارکپوریؒ) اسی کے قائل ہیں۔ [تحفة الأحوذى 623/1]
(امیر صنعانیؒ) اس کو ترجیح دیتے ہیں۔ [سبل السلام 180/1]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 339]

Sunan Ibn Majah Hadith 717 in Urdu