سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب ما يجب على المؤذن من تعاهد الوقت
باب: مؤذن پر اذان کے اوقات کی پابندی ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 518
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 518]
جناب ابوصالح کہتے ہیں: ”میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ میں نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے سنا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔“ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 12429) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (663)
انظر الحديث السابق (517)
مشكوة المصابيح (663)
انظر الحديث السابق (517)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي | ثقة ثبت | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد الحسن بن علي الهذلي ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ له تصانيف |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 518 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 518
518۔ اردو حاشیہ:
➊ امام کی ذمہ داری یہ ہے کہ صحیح سنت کے مطابق نماز پڑھائے۔ دعاؤں میں اپنے مقتدیوں کو شامل رکھے۔ اور صرف اپنے آپ کو ہی مخصوص نہ کرے۔ وغیرہ۔
➋ موذن کا اذان دینا اعلان عام ہوتا ہے کہ نماز سحر یا افطار کا وقت ہو گیا ہے۔ اس لئے اس پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ اور اس پر واجب ہے کہ اپنی ذمے داری کا خوب احساس کرے۔
➌ نماز کی امامت اور موذن بننا اسلامی معاشرے کے انتہائی باوقار مناصب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی فضیلت بیان کی ہے۔ اس لئے انہیں کامل عزت و احترام دیا جائے۔ اور بلاوجہ ان کی تحقیر اور عیب چینی سے بچا جائے۔ دراصل یہ ہے کہ یہ مناصب دیکھ بھال کر صاحب صلاحیت افراد ہی کو دیئے جایئں۔
➊ امام کی ذمہ داری یہ ہے کہ صحیح سنت کے مطابق نماز پڑھائے۔ دعاؤں میں اپنے مقتدیوں کو شامل رکھے۔ اور صرف اپنے آپ کو ہی مخصوص نہ کرے۔ وغیرہ۔
➋ موذن کا اذان دینا اعلان عام ہوتا ہے کہ نماز سحر یا افطار کا وقت ہو گیا ہے۔ اس لئے اس پر اعتماد کیا جانا چاہیے۔ اور اس پر واجب ہے کہ اپنی ذمے داری کا خوب احساس کرے۔
➌ نماز کی امامت اور موذن بننا اسلامی معاشرے کے انتہائی باوقار مناصب ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی فضیلت بیان کی ہے۔ اس لئے انہیں کامل عزت و احترام دیا جائے۔ اور بلاوجہ ان کی تحقیر اور عیب چینی سے بچا جائے۔ دراصل یہ ہے کہ یہ مناصب دیکھ بھال کر صاحب صلاحیت افراد ہی کو دیئے جایئں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 518]
Sunan Abi Dawud Hadith 518 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي