پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. باب في قبلة الجسد
باب: جسم کے کسی حصے کو چومنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5224
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ , أَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ حُصَيْنٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ , قال:" يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ , فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ , فَقَالَ: أَصْبِرْنِي , فَقَالَ: اصْطَبِرْ , قَالَ: إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَيَّ قَمِيصٌ , فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ , فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِّلُ كَشْحَهُ , قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ".
اسید بن حضیرانصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ کچھ لوگوں سے باتیں کر رہے تھے اور وہ مسخرے والے آدمی تھے لوگوں کو ہنسا رہے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں لکڑی سے ایک کونچہ دیا، تو وہ بولے: اللہ کے رسول! مجھے اس کا بدلہ دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”بدلہ لے لو“ تو انہوں نے کہا: آپ تو قمیص پہنے ہوئے ہیں میں تو ننگا تھا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھا دی، تو وہ آپ سے چمٹ گئے، اور آپ کے پہلو کے بوسے لینے لگے، اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرا منشأ یہی تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5224]
جناب عبدالرحمٰن بن ابو لیلیٰ، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور یہ انصار میں سے تھے کہ یہ ایک دفعہ اپنی قوم سے باتیں کر رہے تھے، مزاحیہ آدمی تھے اور انہیں ہنسا رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوکھ میں ایک لکڑی چبھو دی۔ تو انہوں نے (اسید بن حضیر نے) کہا: ”مجھے بدلہ دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے لو۔“ انہوں نے کہا: ”آپ پر تو قمیص ہے اور مجھ پر قمیص نہیں تھی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اوپر کر دی۔ تو اسید رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر بوسے دینے لگے اور کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! میری یہی نیت تھی۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 151) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (4685)
وله لون الآخر عند الحاكم (3/288 ح5262 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4685)
وله لون الآخر عند الحاكم (3/288 ح5262 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5224
| اصطبر قال إن عليك قميصا وليس علي قميص فرفع النبي عن قميصه فاحتضنه وجعل يقبل كشحه قال إنما أردت هذا يا رسول الله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5224 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5224
فوائد ومسائل:
1- رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنه بڑی فرحت افزا زندگی گزارتے تھے۔
دینی امور کی انتہائی پابندی کے باوجود ان میں کہیں تندی، کرختگی یا خشکی والی کیفیات نہ تھیں۔
2: باوجود یہ کہ ہنسی مزاح جائز ہے، مگر شریعت نے اجازت نہیں دی کہ اس کیفیت میں بھی کسی پر زیادتی ہو۔
3: ظلم وزیادتی، خواہ مزاح میں ہو شرعًا اس میں قصاص ہے۔
4: صحابہ کرام رضی اللہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کو اپنے صحابہ سے ازحد پیار ومحبت تھی۔
5: اپنی محبوب ومحترم شخصیت کے ہاتھ یا جسم کو بوسہ دینا جائز ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو کوئی ثانی نہیں تھا۔
1- رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنه بڑی فرحت افزا زندگی گزارتے تھے۔
دینی امور کی انتہائی پابندی کے باوجود ان میں کہیں تندی، کرختگی یا خشکی والی کیفیات نہ تھیں۔
2: باوجود یہ کہ ہنسی مزاح جائز ہے، مگر شریعت نے اجازت نہیں دی کہ اس کیفیت میں بھی کسی پر زیادتی ہو۔
3: ظلم وزیادتی، خواہ مزاح میں ہو شرعًا اس میں قصاص ہے۔
4: صحابہ کرام رضی اللہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کو اپنے صحابہ سے ازحد پیار ومحبت تھی۔
5: اپنی محبوب ومحترم شخصیت کے ہاتھ یا جسم کو بوسہ دینا جائز ہے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تو کوئی ثانی نہیں تھا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5224]
Sunan Abi Dawud Hadith 5224 in Urdu
عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← أسيد بن حضير الأشهلي