🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
177. باب في قتل الذر
باب: چیونٹی مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5268
حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى , أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاق الْفَزَارِيُّ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ , عَنْ ابْنِ سَعْدٍ , قَالَ أبو داود: وَهُوَ الْحَسَنُ بن سعد , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ , فَرَأَيْنَا حُمَّرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ , فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا , فَجَاءَتِ الْحُمَرَةُ , فَجَعَلَتْ تُفَرِّشُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا , وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا , فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟ , قُلْنَا: نَحْنُ , قَالَ: إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلَّا رَبُّ النَّارِ".
عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے آپ اپنی حاجت کے لیے تشریف لے گئے، ہم نے ایک چھوٹی چڑیا دیکھی اس کے دو بچے تھے، ہم نے اس کے دونوں بچے پکڑ لیے، تو وہ چڑیا آئی اور (انہیں حاصل کرنے کے لیے) تڑپنے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا: کس نے اس کے بچے لے کر اسے تکلیف پہنچائی ہے، اس کے بچے اسے واپس لوٹا دو، آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جلا ڈالا تھا، آپ نے پوچھا: کس نے جلایا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے، آپ نے فرمایا: آگ کے پیدا کرنے والے کے سوا کسی کے لیے آگ کی سزا دینا مناسب نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5268]
سیدنا عبدالرحمٰن اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، تو ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے بھی تھے۔ ہم نے اس کے بچے پکڑ لیے تو ان کی ماں اپنے بچوں پر گرنے لگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا: اس کو اس کے بچوں سے کس نے پریشان کیا ہے؟ اس کے بچے اس کو واپس کر دو۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ چیونٹیوں کا ایک بل ہم نے جلا ڈالا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس کو کس نے جلایا ہے؟ ہم نے بتایا کہ ہم نے جلایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ کے رب (اللہ تعالیٰ) کے سوا کسی کو روا نہیں کہ کسی کو آگ سے عذاب دے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5268]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (2675)، (تحفة الأشراف: 9362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (2675)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن عبد الله الهذلي
Newعبد الرحمن بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥الحسن بن سعد الهاشمي
Newالحسن بن سعد الهاشمي ← عبد الرحمن بن عبد الله الهذلي
ثقة
👤←👥سليمان بن فيروز الشيباني، أبو إسحاق
Newسليمان بن فيروز الشيباني ← الحسن بن سعد الهاشمي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الفزاري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن محمد الفزاري ← سليمان بن فيروز الشيباني
إمام ثقة حافظ
👤←👥محبوب بن موسى الأنطاكي، أبو صالح
Newمحبوب بن موسى الأنطاكي ← إبراهيم بن محمد الفزاري
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
2675
لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار
سنن أبي داود
5268
لا ينبغي أن يعذب بالنار إلا رب النار
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5268 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5268
فوائد ومسائل:
1: اللہ کی مخلوق کو بلا وجہ پریشان کرنا جائز نہیں، البتہ زینت کے لئے معروف جانور پالنا، انہیں باندھنا اور پنجروں میں بند رکھنا جائز ہے۔

2: چیونٹیوں یا دوسری مخلوق (انسان ہو یا حیوان) کو آگ سے جلا کر ہلاک کرنا جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5268]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2675
دشمن کو آگ سے جلانے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ آپ اپنی ضرورت کے لیے گئے، ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ دو بچے تھے، ہم نے ان بچوں کو پکڑ لیا، وہ چڑیا آ کر زمین پر پر بچھانے لگی، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آ گئے، اور (یہ دیکھ کر) فرمایا: اس چڑیا کا بچہ لے کر کس نے اسے بے قرار کیا ہے؟ اس کے بچے کو اسے واپس کرو، اور آپ نے چیونٹیوں کی ایک بستی کو دیکھا جسے ہم نے جلا دیا تھا تو پوچھا: اس کو کس نے جلایا ہے؟ ہم لوگوں نے کہا: ہم نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگ سے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2675]
فوائد ومسائل:
انسان تو انسان جانوروں کو بھی خواہ موذی ہی ہوں آگ سے جلانا جائز نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2675]

Sunan Abi Dawud Hadith 5268 in Urdu