سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب فِي الصَّلاَةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو. ح وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جب نماز کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 541]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہی جاتی اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر تشریف لانے سے پہلے ہی اپنی جگہیں لے چکے ہوتے تھے۔ (یعنی صفیں برابر کر چکے ہوتے تھے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حديث رقم: 235، (تحفة الأشراف: 15200) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (640) صحيح مسلم (605)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1369
| الصلاة كانت تقام لرسول الله فيأخذ الناس مصافهم قبل أن يقوم النبي مقامه |
سنن أبي داود |
541
| الصلاة كانت تقام لرسول الله فيأخذ الناس مقامهم قبل أن يأخذ النبي |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 541 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 541
541۔ اردو حاشیہ:
قاضی عیاض کا بیان ہے کہ ایسا شائد ایک دو بار ہی ہوا ہے، غرض اس سے بیان جواز تھا یا کوئی اور عذر۔ اور غالباً پہلے ایسے ہی ہوتا ہو گا اور بعد میں کسی وقت آپ کے آنے میں دیر ہو گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو گا، جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہوا کرو۔ [عون المعبود]
قاضی عیاض کا بیان ہے کہ ایسا شائد ایک دو بار ہی ہوا ہے، غرض اس سے بیان جواز تھا یا کوئی اور عذر۔ اور غالباً پہلے ایسے ہی ہوتا ہو گا اور بعد میں کسی وقت آپ کے آنے میں دیر ہو گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو گا، جب تک مجھے دیکھ نہ لو کھڑے نہ ہوا کرو۔ [عون المعبود]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 541]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1369
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کھڑی کی جاتی اور لوگ صفوں میں اپنی اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے، لیکن ابھی تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ کھڑے نہیں ہوتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1369]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ سے نکلنے پر تکبیر کے ساتھ ہی لوگ کھڑا ہونا شروع ہو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصلیٰ پر آمد تک صف بندی ہو چکی ہوتی تھی۔
فوائد ومسائل:
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ سے نکلنے پر تکبیر کے ساتھ ہی لوگ کھڑا ہونا شروع ہو جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصلیٰ پر آمد تک صف بندی ہو چکی ہوتی تھی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1369]
Sunan Abi Dawud Hadith 541 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي