🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

46. باب فِي الصَّلاَةِ تُقَامُ وَلَمْ يَأْتِ الإِمَامُ يَنْتَظِرُونَهُ قُعُودًا
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 539
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَحَجَّاجٌ الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى، وَهِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، وَقَالَا فِيهِ: حَتَّى تَرَوْنِي وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ.
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے تکبیر کہی جائے تو جب تک تم مجھے (آتا) نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہوا کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور ہشام دستوائی کا بیان ہے کہ مجھے یحییٰ نے یہ حدیث لکھ کر بھیجی، نیز اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے بھی یحییٰ سے روایت کیا ہے، ان دونوں کی روایت میں ہے: یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو، اور سکون اور وقار کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 539]
جناب عبداللہ بن ابی قتادہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اقامت کہہ دی جائے تو جب تک مجھے (آتا) نہ دیکھ لو کھڑے نہ ہوا کرو۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ایوب اور حجاج الصواف نے یحییٰ سے ایسے ہی روایت کیا ہے (یعنی صیغہ «عن» کے ساتھ) اور ہشام دستوائی نے کہا: یحییٰ نے مجھے لکھا، اور اسے معاویہ بن سلام اور علی بن مبارک نے یحییٰ سے روایت کیا، ان دونوں نے اس روایت میں کہا: (اس وقت تک کھڑے نہ ہو) جب تک کہ مجھے دیکھ نہ لو اور آرام و سکون اختیار کرو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 22 (637)، 23 (638)، والجمعة 18 (909)، صحیح مسلم/المساجد 29 (604)، سنن الترمذی/الصلاة 298 (592)، سنن النسائی/الأذان 42 (688)، والإمامة 12 (791)، (تحفة الأشراف: 12106)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/304، 307، 308)، سنن الدارمی/الصلاة 47 (1296) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: معلوم ہوا کہ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے قبل بھی اقامت کہہ دی جاتی تھی، جب کہ آپ کو پہلے جماعت کا وقت ہونے کی اطلاع دی جاتی تھی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (637) صحيح مسلم (604)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 540
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، قَالَ: حَتَّى تَرَوْنِي قَدْ خَرَجْتُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ قَدْ خَرَجْتُ إِلَّا مَعْمَرٌ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَعْمَرٍ، لَمْ يَقُلْ فِيهِ: قَدْ خَرَجْتُ.
یحییٰ سے اسی سند سے گذشتہ حدیث کے ہم مثل حدیث مروی ہے، اس میں ہے یہاں تک کہ تم مجھے دیکھ لو کہ میں نکل چکا ہوں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: معمر کے علاوہ کسی نے «قد خرجت» کا لفظ ذکر نہیں کیا۔ ابن عیینہ نے بھی اسے معمر سے روایت کیا ہے، اس میں بھی انہوں نے «قد خرجت» نہیں کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 540]
یحییٰ نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا، انہوں نے کہا کہ: (اس وقت تک کھڑے نہ ہو) حتیٰ کہ مجھے دیکھ لو کہ میں گھر میں سے نکل آیا ہوں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ «قد خرجت» کے الفاظ صرف معمر رحمہ اللہ نے روایت کیے ہیں۔ ابن عیینہ رحمہ اللہ نے معمر رحمہ اللہ سے روایت کیا تو اس میں «قد خرجت» کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 12106) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (637) صحيح مسلم (604)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 541
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَمْرٍو. ح وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ تُقَامُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَأْخُذُ النَّاسُ مَقَامَهُمْ قَبْلَ أَنْ يَأْخُذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جب نماز کی تکبیر کہی جاتی تھی تو لوگ اپنی اپنی جگہیں لے لیتے قبل اس کے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ لیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 541]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہی جاتی اور لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلے پر تشریف لانے سے پہلے ہی اپنی جگہیں لے چکے ہوتے تھے۔ (یعنی صفیں برابر کر چکے ہوتے تھے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حديث رقم: 235، (تحفة الأشراف: 15200) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (640) صحيح مسلم (605)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 542
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ".
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہو جانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہو جانے کے بعد (باتوں کے ذریعے) روکے رکھا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 542]
جناب حمید کہتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی سے پوچھا کہ کوئی آدمی اقامت ہو جانے کے بعد کسی سے کوئی بات کرے (تو کیسا ہے؟) تو انہوں نے مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنائی کہ (ایک بار) نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی آ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کچھ دیر کے لیے) روکے رکھا، جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، 28 (643)، والاستئذان 48 (6292)، (تحفة الأشراف: 395)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 33 (376)، سنن النسائی/الإمامة 13 (792)، مسند احمد (3/101، 114، 182) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اقامت اور تکبیر تحریمہ میں فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں اور مناسب بات کر لینا بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (643)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 543
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ السَّدُوسِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، عَنْ أَبِيهِ كَهْمَسٍ، قَالَ: قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ بِمِنًى وَالْإِمَامُ لَمْ يَخْرُجْ فَقَعَدَ بَعْضُنَا، فَقَالَ لِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ: مَا يُقْعِدُكَ؟ قُلْتُ: ابْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: هَذَا السُّمُودُ؟ فَقَالَ لِي الشَّيْخُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْسَجَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي الصُّفُوفِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ، قَالَ: وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَلُونَ الصُّفُوفَ الْأُوَلَ، وَمَا مِنْ خُطْوَةٍ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ خُطْوَةٍ يَمْشِيهَا يَصِلُ بِهَا صَفًّا".
کہمس کہتے ہیں کہ ہم منیٰ میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، امام ابھی نماز کے لیے نہیں نکلا تھا کہ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ گئے، تو کوفہ کے ایک شیخ نے مجھ سے کہا: تمہیں کون سی چیز بٹھا رہی ہے؟ میں نے ان سے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں: یہی «سمود» ۱؎ ہے، یہ سن کر مذکورہ شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ کے تکبیر کہنے سے پہلے صفوں میں دیر تک کھڑے رہتے تھے ۲؎۔ براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور اس کے فرشتے دعا کرتے ہیں، جو پہلی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں اور صف میں شامل ہونے کے لیے جو قدم اٹھایا جائے اس سے بہتر اللہ کے نزدیک کوئی قدم نہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 543]
کہمس کہتے ہیں کہ وادی منٰی میں ہم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور امام نہیں پہنچا تھا، تو ہم میں سے کچھ بیٹھ گئے۔ مجھ سے کوفہ کے ایک شخص نے کہا: تم کیوں بیٹھ گئے ہو؟ میں نے کہا: ابن بریدہ کہتے ہیں کہ یہ کیفیت (کھڑے منہ اٹھائے دیکھنا) «سمود» ہے۔ (اور یہ کوئی اچھی بات نہیں) تو اس شیخ نے مجھ سے کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن عوسجہ نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تکبیر تحریمہ کہے جانے سے پہلے لمبی دیر تک کھڑے رہا کرتے تھے۔ اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ پہلی صفوں سے ملے ہوئے ہوتے ہیں، اللہ عزوجل ان پر رحمت نازل کرتا اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور اللہ کے ہاں اس قدم سے بڑھ کر اور کوئی قدم محبوب نہیں جس سے وہ چل کر آتا اور صف کو ملاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 543]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود،(تحفة الأشراف: 1777) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کی سند میں شیخ من أہل الکوفة مبہم راوی ہے)
وضاحت: ۱؎: امام کے انتظار میں کھڑے رہنے کو سمود کہتے ہیں جو منع ہے، ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سمود کو مکروہ سمجھتے تھے۔
۲؎: یہ حدیث ضعیف ہے اس لئے اس کو کسی صحیح حدیث کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ من أھل الكوفة لم أعرفه
وحديث (664،الأصل) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز (عشاء) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 544]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی ایک جانب میں (کسی کے ساتھ) سرگوشی میں مشغول رہے اور نماز کے لیے آئے تو لوگوں کو نیند آ رہی تھی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، صحیح مسلم/الحیض 33(376)، (تحفة الأشراف: 1035) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (642) صحيح مسلم (376)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُقَامُ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ، إِذَا رَآهُمْ قَلِيلًا جَلَسَ لَمْ يُصَلِّ، وَإِذَا رَآهُمْ جَمَاعَةً صَلَّى".
سالم ابوالنضر کہتے ہیں جب نماز کی تکبیر کہہ دی جاتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے کہ (مسجد میں) لوگ کم آئے ہیں تو آپ بیٹھ جاتے، نماز شروع نہیں کرتے اور جب دیکھتے کہ جماعت پوری ہے تو نماز پڑھاتے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 545]
سالم ابوالنصر رحمہ اللہ (تابعی) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقامت کہے جانے کے بعد مسجد میں حاضرین کو کم محسوس کرتے تو بیٹھ جاتے اور نماز نہ پڑھاتے اور جب دیکھتے کہ جمع ہو گئے ہیں، تو نماز پڑھا دیتے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 545]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10334، 18668) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یہ روایت مرسل ہے، سالم ابوالنضر بہت چھوٹے تابعی ہیں اور ارسال کرتے ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج عنعن
و السند مرسل
وانظر الحديث الآتي (546)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 546
اس سند سے ابومسعود زرقی بھی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے گذشتہ روایت کے ہم مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 546]
نافع بن جبیر، ابومسعود زرقی سے، وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 546]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 10334، 18668) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ابو مسعود زرقی مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج صرح بالسماع عند البيھقي (20/2) ولكن في السند إليه عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد مدلس وعنعن(راجع الفتح المبين ص 55)
وانظر الحديث السابق (545)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں