🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب السِّوَاكِ لِمَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ
باب: آدمی رات کو اٹھے تو مسواک کرے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْقُدُ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ فَيَسْتَيْقِظُ، إِلَّا تَسَوَّكَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رات کو یا دن کو سو کر اٹھتے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 57]
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن یا رات میں جب بھی سو کر اٹھتے تو وضو سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 57]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 17819)، مسند احمد (6/121، 160) (حسن) دون قوله: ’’ولا نهار‘‘» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله ولا نهار
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
علي بن زيد بن جدعان ضعيف (تقدم: 54) والجمھور علي تضعيفه
وأم محمد لم أجد من وثقھاوھي مجهولة
وانظر الحديث الآتي (4898)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 15


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أمية بنت عبد الله، أم محمد
Newأمية بنت عبد الله ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
مجهول الحال
👤←👥علي بن زيد القرشي، أبو الحسن
Newعلي بن زيد القرشي ← أمية بنت عبد الله
ضعيف الحديث
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← علي بن زيد القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن كثير العبدي، أبو عبد الله
Newمحمد بن كثير العبدي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
57
لا يرقد من ليل ولا نهار فيستيقظ إلا تسوك قبل أن يتوضأ
جامع الترمذي
459
صلاة النبي من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر من ذلك بخمس لا يجلس في شيء منهن إلا في آخرهن فإذا أذن المؤذن قام فصلى ركعتين خفيفتين
صحيح مسلم
1720
يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر من ذلك بخمس لا يجلس في شيء إلا في آخرها
سنن أبي داود
1338
يصلي من الليل ثلاث عشرة ركعة يوتر منها بخمس لا يجلس في شيء من الخمس حتى يجلس في الآخرة فيسلم
سنن أبي داود
1359
يصلي ثلاث عشرة ركعة بركعتيه قبل الصبح يصلي ستا مثنى مثنى ويوتر بخمس لا يقعد بينهن إلا في آخرهن
مسندالحميدي
195
أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يوتر بخمس لا يجلس إلا في آخرهن
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 57 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 57
فوائد و مسائل:
➊ یہ روایت ضعیف ہے اور بعض کے نزدیک «ولا نهار» کے الفاظ ثابت نہیں۔ (یعنی سو کر اٹھنے کے بعد یہ اہتمام صرف رات کو کرتے تھے)۔
➋ مسواک کرنے کے بہت سے فائدے ہیں اور سب سے بڑا فائدہ یہ کہ مسواک اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا ذریعہ اور اس سے منہ بھی پاک صاف ہو جاتا ہے، جیسا کہ کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ «السواك مطهرة للفم مرضاة للرب» [سنن نسائي، حديث: 5] مسواک، منہ کو پاک صاف کرنے والی اور رب کی رضامندی کا ذریعہ ہے۔
➌ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہےکہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ کام کرنے ہی سے اس کی رضامندی حاصل ہوتی ہے، لہٰذا مسواک کرتے وقت یہی نیت اور ارادہ ہو کہ اس سے ہمارا اللہ ہم سے راضی ہو جائے۔ اطباء اور ڈاکٹر حضرات نے بھی اس کے بہت سے فائدے ذکر کیے ہیں۔
➍ مسواک کرنے سے منہ اور حلق کی آلائشیں بکثرت زائل اور ختم ہو جاتی ہیں۔ مسواک صرف دانتوں ہی تک محدود نہ رکھی جائے بلکہ زبان اور حلق کے قریب تک کی جائے، خصوصاً صبح سو کر اٹھنے پر اسی طرح کیا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی سو کر بیدار ہوتے تو مسواک کرتے، اور اس میں مبالغہ کرتے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے عَا عاَ، اُع اُع، اور اہ اہ کی آواز یں نکلتیں۔
➎ ہمارے پیش نظر یہ بات ہونی چائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود مسواک کا اہتمام و التزام کیا ہے، نیز امت کو بھی اسی قدر تاکید فرمائی ہےاور اگر امت پر مشقت اور بارگراں کا خطرہ نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہر وضو اور ہر نماز کے وقت ضرور ی قرار دیتے۔
➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منہ کی ذرا سی بو کو بھی پسند نہ کرتے تھے اسی لیے سو کر اٹھتے تو فوراً مسواک کرتے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 57]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1720
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات پڑھتے تھے، اس میں پانچ وتر ہوتے تھے، جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف آخری رکعت میں (تشہد کے لیے) بیٹھتے تھے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1720]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کی مختلف صورتیں ثابت ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر سمیت گیارہ رکعت پڑھتے تھے لیکن بعض دفعہ مصروفیت،
مرض،
نیند یا تکلیف کے سبب اس میں کمی بیشی کی ہے۔
آخری عمر میں سن رسیدہ ہونے کی بنا پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمی کی ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سات،
نو،
گیارہ،
تیرہ رکعات ثابت ہیں،
حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز کی آٹھ شکلیں بیان فرمائی ہیں۔
وتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی آخر میں ایک ہی پڑھا ہے۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بہتر طریقہ یہی ہے کہ آخر میں ایک ہی وتر پڑھا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سلام سے درمیان میں بیٹھے بغیر تین وتر بھی پڑھے ہیں اور پانچ بھی جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف پانچویں رکعت پر بیٹھے ہیں سات وتر بھی پڑھے ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھٹی رکعت پر بیٹھے لیکن سلام ساتویں رکعت پر بیٹھ کر پھیرتے اس طرح نو وتر پڑھے ہیں آٹھویں رکعت پر بیٹھ کر سلام نوویں رکعت پر پھیرا ہے یہ ساری ہی صورتیں جائز ہیں۔
احناف کے نزدیک وتر کی صرف ایک صورت ہے کہ وتر تین ہیں اور ان کو مغرب کی طرح دو تشہدوں سے پڑھا جائے گا حالانکہ صحیح ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں جس کو امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ،
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ اور امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ،
نے صحیح قرار دیا ہے اس صورت سے منع کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1720]

Sunan Abi Dawud Hadith 57 in Urdu