سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب في كراهية التدافع على الإمامة
باب: امامت سے بچنا اور امامت کے لیے ایک کا دوسرے کو آگے بڑھانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 581
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، حَدَّثَتْنِي طَلْحَةُ أُمُّ غُرَابٍ، عَنْ عَقِيلَةَ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ مَوْلَاةٍ لَهُمْ، عَنْ سَلَامَةَ بِنْتِ الْحُرِّ أُخْتِ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ الْفَزَارِيِّ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يَتَدَافَعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ لَا يَجِدُونَ إِمَامًا يُصَلِّي بِهِمْ".
خرشہ بن حر فزاری کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ مسجد والے آپس میں ایک دوسرے کو امامت کے لیے دھکیلیں گے، انہیں کوئی امام نہ ملے گا جو ان کو نماز پڑھائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 581]
طلحہ ام غراب، عقیلہ سے جو کہ بنی فزارہ کی ایک خاتون تھیں اور ان کی آزاد کردہ لونڈی تھیں، وہ سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا سے، جو خرشہ بن حر فزاری رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”(قرب) قیامت کی علامات میں سے (یہ بھی) ہے کہ اہل مسجد امامت کو ایک دوسرے پر ٹالیں گے اور کسی کو نہیں پائیں گے جو ان کی امامت کرائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 581]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 48 (982)، (تحفة الأشراف: 15898)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/381) (ضعیف)» (اس کی راویہ عقیلہ اور طلحہ أم الغراب مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (982)
أم غراب وعقيلة لا يعرف حالھما (تقريب 8631،8642)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
إسناده ضعيف
ابن ماجه (982)
أم غراب وعقيلة لا يعرف حالھما (تقريب 8631،8642)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سلامة بنت الحر الفزارية | صحابي | |
👤←👥عقيلة مولاة لبني فزارة عقيلة مولاة لبني فزارة ← سلامة بنت الحر الفزارية | مجهول الحال | |
👤←👥طلحة، أم غراب طلحة ← عقيلة مولاة لبني فزارة | مجهول | |
👤←👥مروان بن معاوية الفزاري، أبو عبد الله مروان بن معاوية الفزاري ← طلحة | ثقة حافظ وكان يدلس أسماء الشيوخ | |
👤←👥هارون بن عباد الأزدي، أبو محمد، أبو موسى هارون بن عباد الأزدي ← مروان بن معاوية الفزاري | مقبول |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
581
| من أشراط الساعة أن يتدافع أهل المسجد لا يجدون إماما يصلي بهم |
سنن ابن ماجه |
982
| يأتي على الناس زمان يقومون ساعة لا يجدون إماما يصلي بهم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 581 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 581
581۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر اس لئے صحیح ہے کہ قیامت کے قریب شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔ اس کا یہ نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر ایک دوسرے کو کہے گا کہ تم امامت کراؤ، میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بےبہرہ ہوں گے۔ اس لئے جو صاحب صلاحیت ہو یعنی علم و فضل سے بہرہ ور ہو تو بلاوجہ اس عمل سے انکار نہ کرے۔ نیز مسلمانوں کو ایسے افراد تیار کرتے رہنا چاہیے جو ان کے دینی امور کے کفیل بن سکیں۔
یہ روایت سنداً ضعیف ہے، تاہم معنوی طور پر اس لئے صحیح ہے کہ قیامت کے قریب شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔ اس کا یہ نتیجہ یہ ہو گا کہ ہر ایک دوسرے کو کہے گا کہ تم امامت کراؤ، میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بےبہرہ ہوں گے۔ اس لئے جو صاحب صلاحیت ہو یعنی علم و فضل سے بہرہ ور ہو تو بلاوجہ اس عمل سے انکار نہ کرے۔ نیز مسلمانوں کو ایسے افراد تیار کرتے رہنا چاہیے جو ان کے دینی امور کے کفیل بن سکیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 581]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث982
امام کی ذمہ داری کیا ہے؟
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 982]
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 982]
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہ ر وایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم معنوی طور پر صحیح ہے۔
اس لئے کہ قرب قیامت شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک دوسرے سے کہے گا کہ تم امامت کراؤ میں اس کا اہل نہیں ہوں کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بے بہرہ ہوں گے۔
اس لے جو صاحب صلاحیت ہو، یعنی علم وفضل سے بہرہ ور ہو تو بلا وجہ اس پر عمل نہ کرے۔
فائدہ:
یہ ر وایت سنداً ضعیف ہے۔
تاہم معنوی طور پر صحیح ہے۔
اس لئے کہ قرب قیامت شرعی علم کی ناقدری ہو جائے گی۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر ایک دوسرے سے کہے گا کہ تم امامت کراؤ میں اس کا اہل نہیں ہوں کیونکہ وہ سب علم شریعت سے بے بہرہ ہوں گے۔
اس لے جو صاحب صلاحیت ہو، یعنی علم وفضل سے بہرہ ور ہو تو بلا وجہ اس پر عمل نہ کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 982]
Sunan Abi Dawud Hadith 581 in Urdu
عقيلة مولاة لبني فزارة ← سلامة بنت الحر الفزارية