🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب إذا كانوا ثلاثة كيف يقومون
باب: جب تین آدمی نماز پڑھ رہے ہوں تو کس طرح کھڑے ہوں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عنترة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ میں نے اور علقمہ بن قیس نخعی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ہم دیر تک آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، تو لونڈی نکلی اور اس نے جا کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمارے لیے اجازت مانگی، آپ نے ہم کو اجازت دی (اور ہم اندر گئے) پھر ابن مسعود میرے اور علقمہ کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 613]
جناب عبدالرحمٰن بن اسود اپنے والد سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ جناب علقمہ اور اسود نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (ان کے گھر میں ملنے کی) اجازت چاہی اور ہمیں ان کے دروازے پر کافی دیر بیٹھنا پڑا تھا۔ بالآخر ایک لونڈی آئی جس نے ہمارے لیے اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں بلوا لیا۔ پھر آپ نماز کے لیے اٹھے تو میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہوئے (اور ہمیں نماز پڑھائی) پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی دیکھا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/المساجد 27 (720)، والإمامة 18 (800)، والتطبیق 1 (1030)، (تحفة الأشراف: 9173)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 5 (1191)، مسند احمد (1/424، 451، 455، 459) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جب تین آدمی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہوں تو امام آگے کھڑا ہو گا، اور دونوں مقتدی اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور یہ حکم کہ تین آدمی ہوں تو امام ان کے درمیان کھڑا ہو منسوخ ہے، ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے آگے بڑھنے کے بجائے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے (دیکھئے عون المعبود،حدیث مذکور)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥الأسود بن يزيد النخعي، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newالأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود
مخضرم
👤←👥عبد الرحمن بن الأسود النخعي، أبو حفص، أبو بكر
Newعبد الرحمن بن الأسود النخعي ← الأسود بن يزيد النخعي
ثقة
👤←👥هارون بن أبي وكيع الشيباني، أبو عبد الرحمن، أبو عمرو
Newهارون بن أبي وكيع الشيباني ← عبد الرحمن بن الأسود النخعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← هارون بن أبي وكيع الشيباني
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← محمد بن الفضيل الضبي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
613
هكذا رأيت رسول الله فعل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 613 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 613
613۔ اردو حاشیہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ  فتح الباری میں بیان کرتے ہیں کہ ابن سیرین نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ شاید جگہ کی تنگی کی وجہ سے ایسے کیا ہو۔ ابوعمر النمری نے اسے حضرت عبداللہ بن مسعود پر موقوف کہا ہے اور کچھ نے اسے منسوخ کہا ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود کے عمل کو ان کی عدم اطلاع یا نسیان پر محمول کیا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 613]

Sunan Abi Dawud Hadith 613 in Urdu