یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب إذا كان الثوب ضيقا يتزر به
باب: جب کپڑا تنگ اور چھوٹا ہو تو اسے تہہ بند بنا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 634
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ".
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا (رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے، پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا۔ پھر ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکھیوں سے دیکھنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا (کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں)، پھر بات میری سمجھ میں آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جابر!“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے، حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 634]
جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے تو انہوں نے بتایا کہ ”میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور مجھ پر ایک چادر تھی۔ میں نے اس کے پلوؤں کو اس کے مخالف اطراف سے لپیٹنے کی کوشش کی (یعنی دایاں پلو بائیں کندھے پر اور بایاں پلو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا) مگر اس میں گنجائش نہیں تھی اور اس کے کناروں پر جھالر سی لگی تھی۔ میں نے انہیں الٹا کیا اور اس کے کناروں میں اختلاف کر کے اپنی گردن پر باندھ لیا اور گردن کو جھکا لیا کہ کہیں گر نہ جائے۔ پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر ابن صخر آئے اور وہ آپ کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ پس آپ نے ہم دونوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا حتیٰ کہ اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے مگر میں نہ سمجھ سکا۔ پھر میں سمجھ گیا اور آپ نے اشارہ کیا کہ اسے تہ بند بنا لوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے جابر!“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کپڑا کھلا ہو تو اس کے کناروں میں اختلاف کر لیا کرو (اور کندھوں پر ڈال لیا کرو) اور اگر تنگ ہو تو اپنی کمر پر باندھ لیا کرو۔“ (یعنی صرف تہبند باندھ لیا کرو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2360)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (1788)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (973)، مسند احمد (3/351) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (3008)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
361
| إن كان واسعا فالتحف به وإن كان ضيقا فاتزر به |
سنن أبي داود |
634
| إذا كان واسعا فخالف بين طرفيه وإذا كان ضيقا فاشدده على حقوك |
Sunan Abi Dawud Hadith 634 in Urdu
عبادة بن الوليد الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري