سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. باب المصلي إذا خلع نعليه أين يضعهما
باب: نمازی اپنے جوتے اتار کر کہاں رکھے؟
حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا، لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ دے، چاہیئے کہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 655]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نماز پڑھنے لگے اور اپنے جوتے اتارے تو ان سے کسی دوسرے کو ایذا نہ دے۔ (یعنی اس کے آگے یا دائیں طرف نہ رکھے یا کسی اور طرح سے بھی اذیت کا باعث نہ بنے۔) چاہیے کہ انہیں اپنے قدموں کے درمیان میں رکھے یا پہنے ہوئے ہی نماز پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14331) (صحیح)»
وضاحت: جوتے اتار کر یا پہن کر نماز پڑھنا دونوں ہی طرح جائز ہے، البتہ کبھی کبھی یہودیوں کی مخالفت کے اظہار کے لیے پہن کر نماز پڑھنا، احیائے سنت کی نیت سے باعث اجر و فضیلت ہے مگر خیال رہے کہ یہ کام بے علم عوام میں فتنے کا باعث نہ بنے۔ کسی بھی مسلمان کو کسی طرح سے اذیت دینا حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
655
| إذا صلى أحدكم فخلع نعليه فلا يؤذ بهما أحدا ليجعلهما بين رجليه ليصل فيهما |
المعجم الصغير للطبراني |
280
| إذا صلى أحدكم فخلع نعليه فلا يؤذ بهما أحدا ليخلعهما بين رجليه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 655 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 655
655۔ اردو حاشیہ:
➊ جوتے اتار کر یا پہن کر نماز پڑھنا دونوں ہی طرح جائز ہے، البتہ کبھی کبھی یہودیوں کی مخالفت کے اظہار کے لیے پہن کر نماز پڑھنا، احیائے سنت کی نیت سے باعث اجر و فضیلت ہے، مگر خیال رہے کہ یہ کام بے علم عوام میں فتنے کا باعث نہ بنے۔
➋ کسی بھی مسلمان کو کسی طرح سے اذیت دینا حرام ہے۔
➊ جوتے اتار کر یا پہن کر نماز پڑھنا دونوں ہی طرح جائز ہے، البتہ کبھی کبھی یہودیوں کی مخالفت کے اظہار کے لیے پہن کر نماز پڑھنا، احیائے سنت کی نیت سے باعث اجر و فضیلت ہے، مگر خیال رہے کہ یہ کام بے علم عوام میں فتنے کا باعث نہ بنے۔
➋ کسی بھی مسلمان کو کسی طرح سے اذیت دینا حرام ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 655]
Sunan Abi Dawud Hadith 655 in Urdu
كيسان المقبري ← أبو هريرة الدوسي