سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. باب مَنْ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَلِيَ الإِمَامَ فِي الصَّفِّ وَكَرَاهِيَةِ التَّأَخُّرِ
باب: کن لوگوں کا صف میں امام کے قریب رہنا مستحب اور پیچھے رہنا مکروہ ہے؟
حدیث نمبر: 676
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى مَيَامِنِ الصُّفُوفِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں طرف کے لوگوں پر اپنی رحمت بھیجتا ہے، اور اس کے فرشتے ان کے لیے دعا کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 676]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ صفوں کے دائیں اطراف والوں پر اپنی رحمت (خاص) نازل فرماتا ہے اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1005)، (تحفة الأشراف: 16366)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/67، 89، 160)، (حسن) بلفظ: ’’على الذين يصلون الصفوف‘‘۔»
وضاحت: مسلمان کو فضیلت والے مقام کی طرف سبقت کرنا اور اس کا حریص ہونا چاہیے تاکہ خصوصی رحمتوں اور فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بن سکے۔ خیال رہے کہ امام کی بائیں جانب کو بھی نہیں بھول جانا چاہیے تاکہ صفوں کی برابری قائم رہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن بلفظ على الذين يصلون الصفوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ماجه (1005)
سفيان الثوري عنعن
و روي ابن خزيمة (1550) بلفظ : ((إن اللّٰه و ملائكته يصلون علي الذين يصلون الصفوف)) و سنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
إسناده ضعيف
ماجه (1005)
سفيان الثوري عنعن
و روي ابن خزيمة (1550) بلفظ : ((إن اللّٰه و ملائكته يصلون علي الذين يصلون الصفوف)) و سنده حسن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 37
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥عثمان بن عروة الأسدي عثمان بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة | |
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد أسامة بن زيد الليثي ← عثمان بن عروة الأسدي | صدوق يهم كثيرا | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← أسامة بن زيد الليثي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥معاوية بن هشام الأسدي، أبو الحسن معاوية بن هشام الأسدي ← سفيان الثوري | صدوق له أوهام | |
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن عثمان بن أبي شيبة العبسي ← معاوية بن هشام الأسدي | وله أوهام، ثقة حافظ شهير |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
676
| الله وملائكته يصلون على ميامن الصفوف |
سنن ابن ماجه |
1005
| الله وملائكته يصلون على ميامن الصفوف |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 676 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 676
676۔ اردو حاشیہ:
مسلمان کو فضیلت والے مقام کی طرف سبقت کرنا اور اس کا حریص ہونا چاہیے تاکہ خصوصی رحمتوں اور فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بن سکے۔ خیال رہے کہ امام کی بائیں جانب کو بھی نہیں بھول جانا چاہیے تاکہ ”صفوں کی برابری“ قائم رہے۔ اجر و فضیلت کا تعلق نیت سے بھی ہوتا ہے۔ ایک آدمی جسے امام کی دائیں جانب کھڑا ہونا ممکن ہے مگر جب دیکھتا ہے کہ اس کی بائیں جانب خالی ہے تو اس طرف کھڑا ہو جائے، تو ان شاء اللہ مذکورہ اجر و فضیلت سے محروم نہیں رہے گا۔ «والله ذو فضل عظيم . والله اعلم»
علاوہ ازیں یہ روایت صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد [الفتح الرباني: 5؍ 316] ، والموسوعۃ الحدیثیۃ [مسند احمد، حديث: 24381] میں بایں الفاظ ہے۔ «ان الله وملائكته يصلون على الذين يصلون الصفوف» ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحمت نازل فرماتا اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔“ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ ”حسن“ قرار دیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں «ميامن الصفوف» کی بجائے «يصلون الصفوف» ہی کے الفاظ ہیں، جن سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے، نہ کہ امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضیلت کا اثبات، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے، افضل فضیلت، صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔ تاہم ہر معاملے میں داہنے پن کی جو عمومی فضیلت ہے، اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔ «والله اعلم»
مسلمان کو فضیلت والے مقام کی طرف سبقت کرنا اور اس کا حریص ہونا چاہیے تاکہ خصوصی رحمتوں اور فرشتوں کی دعاؤں کا مستحق بن سکے۔ خیال رہے کہ امام کی بائیں جانب کو بھی نہیں بھول جانا چاہیے تاکہ ”صفوں کی برابری“ قائم رہے۔ اجر و فضیلت کا تعلق نیت سے بھی ہوتا ہے۔ ایک آدمی جسے امام کی دائیں جانب کھڑا ہونا ممکن ہے مگر جب دیکھتا ہے کہ اس کی بائیں جانب خالی ہے تو اس طرف کھڑا ہو جائے، تو ان شاء اللہ مذکورہ اجر و فضیلت سے محروم نہیں رہے گا۔ «والله ذو فضل عظيم . والله اعلم»
علاوہ ازیں یہ روایت صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد [الفتح الرباني: 5؍ 316] ، والموسوعۃ الحدیثیۃ [مسند احمد، حديث: 24381] میں بایں الفاظ ہے۔ «ان الله وملائكته يصلون على الذين يصلون الصفوف» ”اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحمت نازل فرماتا اور فرشتے ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔“ اور شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو انہی الفاظ کے ساتھ ”حسن“ قرار دیا ہے۔ گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں «ميامن الصفوف» کی بجائے «يصلون الصفوف» ہی کے الفاظ ہیں، جن سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے، نہ کہ امام کے دائیں جانب کھڑے ہونے کی فضیلت کا اثبات، جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے، افضل فضیلت، صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔ تاہم ہر معاملے میں داہنے پن کی جو عمومی فضیلت ہے، اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔ «والله اعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 676]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1005
صف کے داہنی جانب کی فضیلت کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1005]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کے دائیں جانب پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے، اور اس کے فرشتے دعائے خیر کرتے ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1005]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس کام میں دایئں طرف کو ترجیح دیتے تھے۔
جو طبعاً شرعاً مستحسن ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ارشاد ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں (جیسے)
وضو کرنے، کنگھی کرنے اور جوتے پہننے میں دایئں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب التیمن فی الوضوء والغسل، حدیث: 168، وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب التیمن فی الطھور وغیرہ، حدیث: 268)
اس حدیث کی روشنی میں نماز میں کھڑے ہوتے وقت بھی ممکن حد تک دایئں طرف کھڑے ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
لیکن یہ روایت صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد اورسنن بہیقی وغیرہ میں بہ ایں الفاظ مروی ہے۔ (اِنَّ اللهَ وَمَلاَئِكَتُهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ الصَّفُوْفَ)
اللہ تعالیٰ صفوں کے ملانے والوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے ان کےلئے دعایئں کرتے ہیں۔
اورامام بہیقی شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اور مسند احمد کے محققین کے نزدیک یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ محفوظ اور صحیح ہے گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں (مَیَامِنَ الصَّفُوف)
کی بجائے (يَصِلُونَ الصَّفُوف)
ہی کے الفاظ ہیں۔
ملاحظہ ہو:
(تمام المنة، ص: 288، وضعیف سنن ابی داؤد رقم: 676 والموسوعة الحدیثیة (مسند أحمد)
ج 444/40 رقم الحدیث 24381)
اس اعتبار سے اس حدیث سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔
نہ کہ امام کے دایئں جناب کھڑے ہونے کی فضیلت کا جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دایئں یا بایئں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے۔
اصل فضیلت صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔
تاہم ہر معاملے میں دایئں جانب کی جو عمومی فضیلت ہے اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس کام میں دایئں طرف کو ترجیح دیتے تھے۔
جو طبعاً شرعاً مستحسن ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ارشاد ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام کاموں میں (جیسے)
وضو کرنے، کنگھی کرنے اور جوتے پہننے میں دایئں طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔ (صحیح البخاري، الوضوء، باب التیمن فی الوضوء والغسل، حدیث: 168، وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب التیمن فی الطھور وغیرہ، حدیث: 268)
اس حدیث کی روشنی میں نماز میں کھڑے ہوتے وقت بھی ممکن حد تک دایئں طرف کھڑے ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
لیکن یہ روایت صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد اورسنن بہیقی وغیرہ میں بہ ایں الفاظ مروی ہے۔ (اِنَّ اللهَ وَمَلاَئِكَتُهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ الصَّفُوْفَ)
اللہ تعالیٰ صفوں کے ملانے والوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے ان کےلئے دعایئں کرتے ہیں۔
اورامام بہیقی شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ اور مسند احمد کے محققین کے نزدیک یہ روایت انہی الفاظ کے ساتھ محفوظ اور صحیح ہے گویا ان کے نزدیک اس حدیث میں (مَیَامِنَ الصَّفُوف)
کی بجائے (يَصِلُونَ الصَّفُوف)
ہی کے الفاظ ہیں۔
ملاحظہ ہو:
(تمام المنة، ص: 288، وضعیف سنن ابی داؤد رقم: 676 والموسوعة الحدیثیة (مسند أحمد)
ج 444/40 رقم الحدیث 24381)
اس اعتبار سے اس حدیث سے صفوں کے ملانے کی فضیلت کا اثبات ہوتا ہے۔
نہ کہ امام کے دایئں جناب کھڑے ہونے کی فضیلت کا جس کا مطلب یہ ہے کہ امام کے دایئں یا بایئں جانب کھڑا ہونا یکساں ہے۔
اصل فضیلت صف بندی کا صحیح طریقے سے اہتمام کرنے میں ہے۔
تاہم ہر معاملے میں دایئں جانب کی جو عمومی فضیلت ہے اس کے تحت امام کی داہنی جانب باعث فضیلت ہو سکتی ہے۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1005]
Sunan Abi Dawud Hadith 676 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق