سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
116. باب مَنْ قَالَ الْكَلْبُ لاَ يَقْطَعُ الصَّلاَةَ
باب: نمازی کے آگے سے کتوں کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 718
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَادِيَةٍ لَنَا وَمَعَهُ عَبَّاسٌ فَصَلَّى فِي صَحْرَاءَ لَيْسَ بَيْنَ يَدَيْهِ سُتْرَةٌ وَحِمَارَةٌ لَنَا وَكَلْبَةٌ تَعْبَثَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَمَا بَالَى ذَلِكَ".
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم ایک صحرا میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ کے ساتھ عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحرا (کھلی جگہ) میں نماز پڑھی، اس حال میں کہ آپ کے سامنے سترہ نہ تھا، اور ہماری گدھی اور کتیا دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھیل رہی تھیں، لیکن آپ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کی۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 718]
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے اور ہم باہر اپنے دیہات میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحراء میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سترہ نہ تھا۔ ہماری گدھی اور کتیا آپ کے سامنے کھیل رہی تھیں اور آپ نے اس کی کوئی پروا نہ کی۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 718]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القبلة 7 (754)، (تحفة الأشراف: 11045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/211، 212) (ضعیف)» (اس کے راوی عباس لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (754)
عباس بن عبيداﷲ لم يدرك عمه الفضل بن عباس رضي اللّٰه عنھما (تهذيب التهذيب 123/5ت215) فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
إسناده ضعيف
نسائي (754)
عباس بن عبيداﷲ لم يدرك عمه الفضل بن عباس رضي اللّٰه عنھما (تهذيب التهذيب 123/5ت215) فالسند منقطع
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 38
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
718
| صلى في صحراء ليس بين يديه سترة وحمارة لنا وكلبة تعبثان بين يديه فما بالى ذلك |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 718 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 718
718۔ اردو حاشیہ:
احتمال ہے کہ یہ جانور قدرے فاصلے پر ہوں یہاں ان کے آگے سے گزرنے کی تصریح بھی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
احتمال ہے کہ یہ جانور قدرے فاصلے پر ہوں یہاں ان کے آگے سے گزرنے کی تصریح بھی نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ روایت بھی ضعیف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 718]
Sunan Abi Dawud Hadith 718 in Urdu
العباس بن عبيد الله الهاشمي ← الفضل بن العباس الهاشمي