پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب سؤر الهرة
باب: بلی کے جھوٹے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ، فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ".
کبشۃ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں- وہ کہتی ہیں: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں: پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف (حیرت سے) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا: میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
سیدہ کبثہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ (عبداللہ ابن ابی قتادہ) ابن ابی قتادہ کے نکاح میں تھیں، بیان کرتی ہیں کہ (ان کے خسر) سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ (ان کے گھر) آئے تو انہوں نے ان کے لیے وضو کی خاطر پانی انڈیلا تو ایک بلی آ گئی اور اس (برتن) سے پانی پینے لگی۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے لیے برتن کو قدرے ٹیڑھا کر دیا حتیٰ کہ اس نے پانی پی لیا۔ سیدہ کبثہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں ان کے اس عمل کو حیرت سے دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا: ”اے بھتیجی! کیا تمہیں تعجب ہو رہا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں“، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”بلی نجس نہیں ہے، یہ تم پر گھومنے پھرنے والے جانوروں میں سے ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 75]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 69 (92)، سنن النسائی/الطھارة 54 (68)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 32 (367)، (تحفة الأشراف: 12141)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 3(13)، مسند احمد (5/296، 303، 309)، سنن الدارمی/الطھارة 58 (763) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی رات دن گھر میں رہتی ہے اس لئے پاک کر دی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (482)
مشكوة المصابيح (482)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
75
| ليست بنجس إنها من الطوافين عليكم والطوافات |
جامع الترمذي |
92
| ليست بنجس إنما هي من الطوافين عليكم |
سنن ابن ماجه |
367
| ليست بنجس هي من الطوافين |
سنن النسائى الصغرى |
341
| ليست بنجس إنما هي من الطوافين عليكم |
سنن النسائى الصغرى |
68
| ليست بنجس إنما هي من الطوافين عليكم |
موطأ مالك رواية يحيى الليثي |
41
| ليست بنجس إنما هي من الطوافين عليكم |
بلوغ المرام |
9
| ليست بنجس، إنما هي من الطوافين عليكم |
Sunan Abi Dawud Hadith 75 in Urdu
كبشة بنت كعب الأنصارية ← الحارث بن ربعي السلمي