🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب الوضوء بسؤر الكلب
باب: کتے کے جھوٹے سے وضو کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ ابْنِ مُغَفَّلٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، ثُمَّ قَالَ مَا لَهُمْ وَلَهَا، فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ، وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ، وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مِرَارٍ، وَالثَّامِنَةُ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر فرمایا: لوگوں کو ان سے کیا سروکار؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کے نگراں کتوں کے پالنے کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات بار دھوؤ اور آٹھویں بار مٹی سے مانجھو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن مغفل نے ایسا ہی کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 74]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الطھارة 27 (280)، سنن النسائی/الطھارة 53 (67) المیاہ 7 (337، 338)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 31 (365)، الصیدا (3200، 3201)، (تحفة الأشراف: 9665)، وقد أخرجہ:حم (4/86، 5/56)، سنن الدارمی/الصید 2 (2049) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس میں سابق حکم کی منسوخی اور کتوں کے قتل سے باز رہنے کی دلیل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (280)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مغفل المزني، أبو سعيد، أبو عبد الرحمن، أبو زيادصحابي
👤←👥مطرف بن عبد الله الحرشي، أبو عبد الله
Newمطرف بن عبد الله الحرشي ← عبد الله بن مغفل المزني
ثقة
👤←👥يزيد بن حميد الضبعي، أبو حماد، أبو التياح
Newيزيد بن حميد الضبعي ← مطرف بن عبد الله الحرشي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يزيد بن حميد الضبعي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
74
أمر بقتل الكلاب ثم قال ما لهم ولها فرخص في كلب الصيد
صحيح مسلم
4021
أمر رسول الله بقتل الكلاب ثم قال ما بالهم وبال الكلاب ثم رخص في كلب الصيد وكلب الغنم
سنن ابن ماجه
3200
أمر بقتل الكلاب ثم قال ما لهم وللكلاب ثم رخص لهم
سنن ابن ماجه
3201
أمر بقتل الكلاب ثم قال ما لهم وللكلاب ثم رخص لهم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 74 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 74
فوائد و مسائل:
➊ کتا جس برتن میں منہ مار جائے اس میں موجود چیز (بشکل طعام و شراب) کو گرا دیا جائے اور برتن کو سات یا آٹھ بار دھویا جائے اور ایک بار مٹی سے ضرور مانجا جائے۔
➋ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بعض شاگردوں نے مٹی سے مانجنے کا ذکر چھوڑ دیا ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصل روایت میں یہ ہے ہی نہیں۔ احتمال ہےکہ انہوں نے اختصار سےکام لیا ہو۔ جبکہ محمد بن سیرین، ابوایوب سختیانی، حسن بصری اور ابورافع رحمها اللہ نے مٹی سے مانجنے کا ذکر کیا ہے۔ اور ثقہ کی زیادت مقبول ہوا کرتی ہے . . . . اسی قاعدے کے تحت سیدنا عبداللہ بن مغفل کی روایت آٹھویں بار کی قابل قبول ہے۔
➌ جدید تحقیقات مؤید ہیں کہ کتے کے جراثیم کے لیے مٹی ہی کماحقہ قاتل ہے۔
➍ کتا خواہ شکاری ہو اس کا لعاب نجس ہے۔ شکار کے معاملے میں خاص استثنا معلوم ہوتا ہے۔
➎ کتوں کو بالعموم قتل کرنا منسوخ ہے تاکہ ان کی نسل کلی طور پر تباہ نہ ہو جائے۔
➏ شکار اور حفاظت کے لیے کتے کا رکھنا جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 74]