سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
123. باب ما يستفتح به الصلاة من الدعاء
باب: نماز کے شروع میں کون سی دعا پڑھی جائے؟
حدیث نمبر: 774
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" عَطَسَ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَ مَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ الشَّابُّ، ثُمَّ قَالَ: مَنِ الْقَائِلُ الْكَلِمَةَ؟ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا قُلْتُهَا لَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: مَا تَنَاهَتْ دُونَ عَرْشِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے حالت نماز میں ایک انصاری نوجوان کو چھینک آ گئی، تو اس نے کہا: «الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعد ما يرضى من أمر الدنيا والآخرة» ”اللہ کے لیے بہت بہت تعریف ہے، ایسی تعریف جو پاکیزہ اور بابرکت ہو، یہاں تک کہ ہمارا رب خوش و راضی ہو جائے اور دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اس کے خوش ہو جانے کے بعد بھی یہ حمد و ثنا برقرار رہے“، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہ کلمات کس نے کہے؟“، عامر بن ربیعہ کہتے ہیں: نوجوان انصاری خاموش رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: ”یہ کلمات کس نے کہے؟ جس نے بھی کہا ہے اس نے برا نہیں کہا“، تب اس نوجوان نے کہا: اللہ کے رسول! یہ کلمات میں نے کہے ہیں، میری نیت خیر ہی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کلمات عرش الٰہی کے نیچے نہیں رکے (بلکہ رحمن کے پاس پہنچ گئے)“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 774]
جناب عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں ایک انصاری جوان نے چھینک ماری، تو اس نے کہا: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ حَتَّى يَرْضَى رَبُّنَا وَبَعْدَمَا يَرْضَى مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ» ”تعریف اللہ کی، بہت ساری تعریف، پاکیزہ، بابرکت، حتیٰ کہ ہمارا رب راضی ہو جائے اور دنیا و آخرت کے معاملے کے بعد جس پر وہ راضی ہو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھا: ”کس نے کلمات کہے ہیں؟“ تو وہ نوجوان خاموش رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس نے کلمات کہے ہیں؟ اس نے کوئی حرج کی بات نہیں کہی۔“ تب وہ بولا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے کہے ہیں اور میں نے بھلائی ہی کا ارادہ کیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کلمات عرشِ رحمٰن سے ورے کہیں نہیں رکے (بلکہ براہِ راست سیدھے عرش تک جا پہنچے ہیں)، بلند ہے ذکر اس کا۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5038) (ضعیف)» (اس کے دو راوی شریک اور عاصم ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه ضعيف(تقريب التهذيب: 3065) قال النووي : و قد ضعفه الجمهور (خلاصة الأحكام 87/1 ح 98) و قال العيني : و قد ضعفه الجمهور(عمدة القاري 13/11) و قال الھيثمي:وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 150/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
إسناده ضعيف
عاصم بن عبيد اللّٰه ضعيف(تقريب التهذيب: 3065) قال النووي : و قد ضعفه الجمهور (خلاصة الأحكام 87/1 ح 98) و قال العيني : و قد ضعفه الجمهور(عمدة القاري 13/11) و قال الھيثمي:وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 150/8)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
774
| الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه حتى يرضى ربنا وبعدما يرضى من أمر الدنيا والآخرة فلما انصرف رسول الله قال من القائل الكلمة قال فسكت الشاب ثم قال من القائل الكلمة فإنه لم يقل بأسا فقال يا رسول الله أنا قلتها لم أرد بها إلا خيرا |
Sunan Abi Dawud Hadith 774 in Urdu
عبد الله بن عامر العنزي ← عامر بن ربيعة العنزي