علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
125. باب السكتة عند الافتتاح
باب: نماز شروع کرنے کے وقت (تکبیر تحریمہ کے بعد) سکتہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ سَمُرَةُ" حَفِظْتُ سَكْتَتَيْنِ فِي الصَّلَاةِ: سَكْتَةً إِذَا كَبَّرَ الْإِمَامُ حَتَّى يَقْرَأَ، وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ عِنْدَ الرُّكُوعِ"، قَالَ: فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ: فَكَتَبُوا فِي ذَلِكَ إِلَى الْمَدِينَةِ إِلَى أُبَيٍّ، فَصَدَّقَ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ حُمَيْدٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: وَسَكْتَةً إِذَا فَرَغَ مِنَ الْقِرَاءَةِ.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں: ایک امام کے تکبیر تحریمہ کہنے سے، قرأت شروع کرنے اور دوسرا جب فاتحہ اور سورت کی قرأت سے فارغ ہو کر رکوع میں جانے کے قریب ہوا، اس پر عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے اس کا انکار کیا، تو لوگوں نے اس سلسلے میں مدینہ میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو انہوں نے سمرہ کی تصدیق کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حمید نے بھی اس حدیث میں اسی طرح کہا ہے کہ دوسرا سکتہ اس وقت کرتے جب آپ قرآت سے فارغ ہوتے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 777]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے نماز میں دو سکتے یاد ہیں۔ ایک تو جب امام تکبیر کہتا ہے تو قراءت شروع کرنے تک۔ اور دوسرا جب وہ فاتحہ اور سورت کی قراءت سے فارغ ہو کر رکوع کرنا چاہتا ہے۔“ راوی نے کہا کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ان (سمرہ رضی اللہ عنہ) پر اس کا انکار کیا۔ چنانچہ انہوں نے یہ مسئلہ مدینہ میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ بھیجا تو انہوں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی روایت میں حمید الطویل نے بھی ایسے ہی کہا ہے کہ ”دوسرا سکتہ اس وقت ہے جب وہ قراءت سے فارغ ہو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 74 (251)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 12 (845)، (تحفة الأشراف: 4609)، مسند احمد (5/11، 21، 23) (ضعیف)» (حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے عقیقہ کی حدیث کے سوا اور کوئی حدیث نہیں سنی ہے، نیز وہ مدلس ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (845) الحسن البصري عن سمرة بن جندب كتاب، والرواية عن كتاب صحيحة
أخرجه ابن ماجه (845) الحسن البصري عن سمرة بن جندب كتاب، والرواية عن كتاب صحيحة
الرواة الحديث:
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 777 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 777
نماز میں دو سکتوں کی روایت: سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی تصدیق اور اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی توثیق
یہ حدیث صحیح ہے۔ ديكهئے: [سنن ابي داود: ج ا ص 120، ح777 وهو حديث صحيح، وحسنه الترمذي: 51، وقال النيموي التقليدي فى آثار السفن: 383، ”واسناده صحيح“ و عنعنه الحسن البصرى عن سمرة ليست بعلته قادته كما حققته فى نيل المقصودفي العليق على سفن ابي داود ج ا ص: 131 ح 354، يسر الله لنا طبعه]
راقم الحروف نے نیل المقصود میں یہ ثابت کیا ہے کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے حسن بصری رحمہ اللہ کی معنعن روایت بھی صحیح ہوتی ہے، اس لئے کہ یہ روایت کتاب سے ہے جو که بطور مناولہ ہے یا اجازہ یا بطور وِ جادہ۔
اصول حدیث میں، ان تینوں صورتوں میں روایت و استدلال صحیح ہے علی الراجح، بشرطیکہ اس کتاب کی نسبت مصنف تک با سند صحیح ثابت ہو اور نسخہ بھی صحیح و موثوق ہو۔
ديكهئے: [مقدمه ابن الصلاح ص: 200 تا ص 202 مع شرح العراقي]
❀ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس سمرہ رضی اللہ عنہ کی کتاب کا موجود ہونا دلائل صحیحہ سے ثابت ہے۔
❀ (اس کتاب میں سے) حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک حدیث (حدیث العقیقہ) سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔
[شهادت، مارچ 2000 ء]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 308)
یہ حدیث صحیح ہے۔ ديكهئے: [سنن ابي داود: ج ا ص 120، ح777 وهو حديث صحيح، وحسنه الترمذي: 51، وقال النيموي التقليدي فى آثار السفن: 383، ”واسناده صحيح“ و عنعنه الحسن البصرى عن سمرة ليست بعلته قادته كما حققته فى نيل المقصودفي العليق على سفن ابي داود ج ا ص: 131 ح 354، يسر الله لنا طبعه]
راقم الحروف نے نیل المقصود میں یہ ثابت کیا ہے کہ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے حسن بصری رحمہ اللہ کی معنعن روایت بھی صحیح ہوتی ہے، اس لئے کہ یہ روایت کتاب سے ہے جو که بطور مناولہ ہے یا اجازہ یا بطور وِ جادہ۔
اصول حدیث میں، ان تینوں صورتوں میں روایت و استدلال صحیح ہے علی الراجح، بشرطیکہ اس کتاب کی نسبت مصنف تک با سند صحیح ثابت ہو اور نسخہ بھی صحیح و موثوق ہو۔
ديكهئے: [مقدمه ابن الصلاح ص: 200 تا ص 202 مع شرح العراقي]
❀ امام حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس سمرہ رضی اللہ عنہ کی کتاب کا موجود ہونا دلائل صحیحہ سے ثابت ہے۔
❀ (اس کتاب میں سے) حسن بصری رحمہ اللہ نے ایک حدیث (حدیث العقیقہ) سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔
[شهادت، مارچ 2000 ء]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 308)
[فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 308]
Sunan Abi Dawud Hadith 777 in Urdu
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري