🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
124. باب من رأى الاستفتاح بسبحانك اللهم وبحمدك
باب: «سبحانك اللهم وبحمدك» سے نماز شروع کرنے والوں کی دلیل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ، قَالَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِالْمَشْهُورِ عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، لَمْ يَرْوِهِ إِلَّا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، وَقَدْ رَوَى قِصَّةَ الصَّلَاةِ عَنْ بُدَيْلٍ جَمَاعَةٌ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ شَيْئًا مِنْ هَذَا.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالسلام بن حرب سے مروی یہ حدیث مشہور نہیں ہے کیونکہ اسے عبدالسلام سے طلق بن غنام کے علاوہ کسی اور نے روایت نہیں کیا ہے اور نماز کا قصہ بدیل سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے مگر ان لوگوں نے اس میں سے کچھ بھی ذکر نہیں کیا (یعنی: افتتاح کے وقت اس دعا کے پڑھنے کی بابت)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 776]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرَكَ» اے اللہ! تو پاک ہے اپنی تعریف کے ساتھ، تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عبدالسلام بن حرب سے مشہور نہیں ہے۔ اسے صرف طلق بن غنام نے روایت کیا ہے۔ بدیل سے ایک جماعت نے نماز کی تفصیل روایت کی ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی اسے ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 776]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 67 (263)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 1 (804)، (تحفة الأشراف: 16041) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح وهذا الحديث ليس بالمشهور عن عبد السلام بن حرب لم يروه إلا طلق بن غنام وقد روى قصة الصلاة عن بديل جماعة لم يذكروا فيه شيئا من هذا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (815)
الحديث السابق (775) شاھد له وأصله عند مسلم (498)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥أوس بن عبد الله الربعي، أبو الجوزاء
Newأوس بن عبد الله الربعي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥بديل بن ميسرة العقيلي
Newبديل بن ميسرة العقيلي ← أوس بن عبد الله الربعي
ثقة
👤←👥عبد السلام بن حرب الملائي، أبو بكر
Newعبد السلام بن حرب الملائي ← بديل بن ميسرة العقيلي
ثقة
👤←👥طلق بن غنام النخعي، أبو محمد
Newطلق بن غنام النخعي ← عبد السلام بن حرب الملائي
ثقة
👤←👥الحسين بن عيسى الطائي، أبو علي
Newالحسين بن عيسى الطائي ← طلق بن غنام النخعي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
243
سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك و جدك ولا إله غيرك
سنن أبي داود
776
إذا استفتح الصلاة قال سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك و جدك ولا إله غيرك
سنن ابن ماجه
806
سبحانك اللهم وبحمدك تبارك اسمك و جدك ولا إله غيرك
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 776 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 776
776۔ اردو حاشیہ:
علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح اسانید سے ثابت اذکار کا اختیار کرنا ہی اولیٰ اور افضل ہے۔ افتتاح نماز کی دعاؤں میں سب سے صحیح ترین حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے: «يعني اللهم باعد بيني و بين . . .» [صحيح بخاري حديث 744۔ وصحيح مسلم حديث 598] اس کے بعد حدیث علی رضی اللہ عنہ یعنی «وجهت وجهي للذي فطر السموات . . . الخ» اور حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا اور ابوسعید رضی اللہ عنہ یعنی «سبحانك اللهم . . . الخ» میں کلام ہے۔ [نيل الاوطار 215/2۔ تا 219]
لیکن امام شوکانی رحمہ اللہ نے اگلے باب میں اس حدیث کو بھی شواہد کی وجہ سے قابل عمل قرار دیا ہے۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
علاوہ ازیں ہمارے محقق (شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ) نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔
اس لئے اس دعائے استفتاح کا پڑھنا بھی صحیح ہے، گو درجات حدیث میں اس کا نمبر تیسرا ہے، لیکن یہ بھی صحیح ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 776]

اردو فتاویٰ،ابوداود 776
تحقیق دعائے استفتاح
مذکورہ دعائے استفتاح متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مرفوعاً و موقوفاً مروی ہے کہ محدثین کرام نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
❀ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تو مذکورہ دعا پڑھتے۔
[ابو داؤد، الصلوٰۃ: 776، ترمذی، الصلوٰۃ: 243، ابن ماجہ، اقامۃ الصلوات: 806]
◈ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے روایت کیا ہے اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [مستدرک: 1/235]
لیکن اس کی سند میں ایک راوی حارثہ ہے جس کے متعلق علمائے جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے، مگر اس حدیث کی ایک دوسری سند سے اسے تقویت پہنچتی ہے۔ [دارقطنی، حدیث نمبر: 1128]
◈ علامہ البانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ یہ سند منقطع ہونے کے باوجود پہلی حدیث کے لیے بہترین مؤید ہے۔
اس بنا پر یہ روایت درجہ حسن تک پہنچ جاتی ہے۔
اگر اس کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ملا دیا جائے تو درجہ صحت تک پہنچ جاتی ہے۔ [ارواء الغلیل: 2/502]
➊ ❀ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کے وقت نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر مذکورہ دعا پڑھتے تھے۔ [نسائی: 2/132، دارمی: 1/282، مسند امام احمد: 3/50]
◈ شیخ احمد شاکر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ [تحقیق ترمذی، ص: 11، ج: 2]
◈ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے۔
[ارواء الغلیل، ص: 53، ج: 2]
➋ ❀ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر اپنے ہاتھوں کو کانوں تک اٹھاتے اس کے بعد مذکورہ دعا پڑھتے۔ [دارقطنی، حدیث نمبر: 1135]
◈ اس حدیثِ انس رضی اللہ عنہ کو امام طبرانی رحمہ اللہ نے بھی بیان کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔
➌ ❀ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بھی مرفوعاً یہ دعا مروی ہے، لیکن اس کے بعد «وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ» کا بھی ذکر ہے۔ [بیہقی: 1/35]
➍ ❀ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یہ دعا پڑھنا منقول ہے۔ [صحیح مسلم، الصلوٰۃ: 892]
لیکن مسلم کی روایت میں انقطاع ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی عبدہ ہے جس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے، لیکن امام دارقطنی رحمہ اللہ نے یہ موقوف روایت متعدد اسانید سے موصولاً بیان کی ہے۔ [دارقطنی: 1130 تا 1133]
◈ دارقطنی رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو مرفوعاً بھی بیان کیا ہے، تاہم وضاحت کر دی ہے کہ اس کا موقوف ہونا صحیح ہے۔ [دارقطنی: 1129]
اس روایت کے پیش نظر بہتر ہے کہ صحیحین کی روایت کے مطابق نماز کے آغاز میں «اللّٰہُمَّ بَاعِدْبَیْنِیْ» پڑھی جائے، لیکن اگر کوئی سہولت کے پیش نظر «سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ» پڑھتا ہے تو یہ بھی صحیح ہے۔
متعدد محدثین کرام نے مجموعی طور پر مذکورہ بالا روایت کو صحیح اور قابل حجت قرار دیا ہے۔ [واللہ اعلم]
«ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب»
[فتاویٰ اصحاب الحدیث، جلد: 2، صفحہ: 151]
[اردو فتاوىٰ، حدیث/صفحہ نمبر: 151]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 243
نماز شروع کرتے وقت کون سی دعا پڑھے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 243]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(حارثہ بن ابی الرجال ضعیف ہیں،
جیسا کہ خود مؤلف نے کلام کیا ہے،
لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 243]

Sunan Abi Dawud Hadith 776 in Urdu