🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
133. باب قدر القراءة في صلاة الظهر والعصر
باب: ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَهُشَيْمٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" سَجَدَ فِي صَلَاةِ الظُّهْرِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ، فَرَأَيْنَا أَنَّهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ". قَالَ ابْنُ عِيسَى: لَمْ يَذْكُرْ أُمَيَّةَ أَحَدٌ إِلَّا مُعْتَمِرٌ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر میں سجدہ کیا پھر کھڑے ہوئے اور رکوع کیا تو ہم نے جانا کہ آپ نے الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں: معتمر کے علاوہ کسی نے بھی (سند میں) امیہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 807]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ ظہر میں سجدہ (تلاوت) کیا، پھر کھڑے ہو گئے پھر رکوع کیا، تو ہمیں معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿الٓمّٓ ۚ تَنْزِيْلُ﴾ [سورة السجدة: 1-2] السجدہ تلاوت کی تھی۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں: امیہ کا ذکر صرف معتمر ہی نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8559)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/83) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی أمیہ مجہول ہیں، نیز سند میں ان کا ہونا نہ ہونا مختلف فیہ ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليمان التيمي لم يسمعه من أبي مجلز بل سمعه من أمية (انظر مسند أحمد 83/2)
وأمية : مجهول كما في التقريب (561)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥لاحق بن حميد السدوسي، أبو مجلز
Newلاحق بن حميد السدوسي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥أمية
Newأمية ← لاحق بن حميد السدوسي
مجهول
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أمية
ثقة
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة متقن
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← يزيد بن هارون الواسطي
ثقة
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر
Newمحمد بن عيسى البغدادي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
807
سجد في صلاة الظهر ثم قام فركع فرأينا أنه قرأ تنزيل السجدة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 807 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 807
807۔ اردو حاشیہ:
حدیث ضعیف ہے، اس لئے یہ واقعہ تو صحیح نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ اگر نماز میں سجدہ تلاوت والی آیات پڑھی جائے، تو سجدہ تلاوت کرنا بہتر ہو گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 807]

Sunan Abi Dawud Hadith 807 in Urdu