سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
135. باب من رأى التخفيف فيها
باب: ان لوگوں کا ذکر جن کے نزدیک مغرب میں ہلکی سورتیں پڑھنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 813
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ" يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِنَحْوِ مَا تَقْرَءُونَ وَالْعَادِيَاتِ وَنَحْوِهَا مِنَ السُّوَرِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ ذَاكَ مَنْسُوخٌ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا أَصَحُّ.
حماد کہتے ہیں کہ ہشام بن عروہ نے ہمیں خبر دی ہے کہ ان کے والد مغرب میں ایسی ہی سورۃ پڑھتے تھے جیسے تم پڑھتے ہو مثلاً سورۃ العادیات اور اسی جیسی سورتیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ۱؎ حدیث منسوخ ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19034أ) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سورہ مائدہ، انعام اور اعراف پڑھنے والی حدیث، اگر منسوخ کے بجائے یہ کہا جائے کہ ”وہ بیان جواز کے لئے ہے“ تو زیادہ بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
وقول أبي داود رحمه الله غير صحيح
وقول أبي داود رحمه الله غير صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← هشام بن عروة الأسدي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 813 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 813
813۔ اردو حاشیہ:
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسی اختصار قرأت کو راحج قرار دیا ہے، ورنہ دیگر صحیح روایات سے اس کا نسخ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس میں «توسع» ہے اور یہ آخری روایت تابعی کا عمل ہے۔ [عون المعبود]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری قراءت مغرب میں «والمرسلات عرفاً» تھی، جیسا کہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کی روایت گزری ہے۔ [حديث۔ 810]
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اسی اختصار قرأت کو راحج قرار دیا ہے، ورنہ دیگر صحیح روایات سے اس کا نسخ ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس میں «توسع» ہے اور یہ آخری روایت تابعی کا عمل ہے۔ [عون المعبود]
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری قراءت مغرب میں «والمرسلات عرفاً» تھی، جیسا کہ ام الفضل رضی اللہ عنہا کی روایت گزری ہے۔ [حديث۔ 810]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 813]
حماد بن سلمة البصري ← هشام بن عروة الأسدي