🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
134. باب قدر القراءة في المغرب
باب: مغرب میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: قَالَ لِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا لَكَ تَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِطُولَى الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا طُولَى الطُّولَيَيْنِ؟ قَالَ: الْأَعْرَافُ، وَالْأُخْرَى الْأَنْعَامُ". قَالَ: وَسَأَلْتُ أَنَا ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَقَالَ لِي مِنْ قِبَلِ نَفْسِهِ: الْمَائِدَةُ، وَالْأَعْرَافُ.
مروان بن حکم کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم مغرب میں قصار مفصل پڑھا کرتے ہو؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں دو لمبی لمبی سورتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، مروان کہتے ہیں: میں نے (ان سے) پوچھا: وہ دو لمبی لمبی سورتیں کون سی ہیں؟ انہوں نے کہا سورۃ الاعراف اور دوسری سورۃ الانعام ہے۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن ابی ملیکہ سے پوچھا: تو انہوں نے مجھ سے خود اپنی طرف سے کہا: وہ سورۃ المائدہ اور اعراف ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 98 (764)، سنن النسائی/الافتتاح 67 (990)، (تحفة الأشراف: 3738)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/185، 187، 188، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (764)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مروان بن الحكم القرشي، أبو الحكم، أبو عبد الملك، أبو القاسم
Newمروان بن الحكم القرشي ← زيد بن ثابت الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← مروان بن الحكم القرشي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥عبد الله بن أبي مليكة القرشي، أبو محمد، أبو بكر
Newعبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عروة بن الزبير الأسدي
ثقة
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← عبد الله بن أبي مليكة القرشي
ثقة
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
764
يقرأ بطول الطوليين
سنن أبي داود
812
يقرأ في المغرب بطولى الطوليين
سنن النسائى الصغرى
991
يقرأ فيها بأطول الطوليين
سنن النسائى الصغرى
990
يقرأ فيها بأطول الطوليين المص
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 812 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 812
812۔ اردو حاشیہ:
➊ ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر لمبی قرأت بھی کی ہے۔ امام کو اپنے مقتدیوں کا خیال رکھتے ہوئے قرأت اختیار کرنی چاہیے۔
➋ سورۃ حجرات سے آخر قرآن تک کی سورتوں کو مفصل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس لئے کہ ان میں «بسم الله» سے فصل کا تکرار ہے۔ سورہ «لم يكن» سے آخر تک قصار مفصل، سورہ بروج سے «لم يكن» تک اوساط مفصل اور سورۃ حجرات سے بروج تک طوال مفصل کہلاتی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 812]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 990
مغرب میں سورۃ «المص» پڑھنے کا بیان۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مروان سے پوچھا: اے ابوعبدالملک! کیا تم مغرب میں «قل هو اللہ أحد‏» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں ‏ «المص» جو دو لمبی سورتوں (انعام اور اعراف) میں زیادہ لمبی ہے (سورۃ الاعراف) پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 990]
990 ۔ اردو حاشیہ: دو لمبی سورتوں سے مراد سورہ انعام اور سورہ اعراف ہیں اور ان میں سے زیادہ لمبی سورت سورہ اعراف ہے۔ اس سورہ المص بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انھی حروف سے اس سورت کا آغاز ہوتا ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 990]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 991
مغرب میں سورۃ «المص» پڑھنے کا بیان۔
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مروان بن حکم نے انہیں خبر دی کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ کیا بات ہے کہ میں مغرب میں تمہیں چھوٹی سورتیں پڑھتے دیکھتا ہوں، حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نماز میں دو بڑی سورتوں میں جو زیادہ بڑی سورت ہے اسے پڑھتے دیکھا ہے، میں نے پوچھا: اے ابوعبداللہ! دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت کون سی ہے؟ انہوں نے کہا: اعراف۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 991]
991 ۔ اردو حاشیہ: حضرت مروان اس وقت مدینے کے گورنر تھے، بعد میں امیر المؤمنین ہوئے، لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ بہت چھوٹی سورتیں پڑھتے ہوں گے جیسا کہ حدیث نمبر: 990 میں ذکر ہے، حالانکہ چھوٹی مفصل سورتوں میں ان سے دگنی بلکہ تگنی سورتیں بھی شامل ہیں۔ انہیں بھی پڑھنا چاہیے۔ گویا حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا اعتراض بہت چھوٹی سورتیں ہمیشہ پڑھنے پر تھا، نہ کہ قصار مفصل پڑھنے پر کیونکہ ان کا پڑھنا تو مسنون ہے۔ باقی رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سورۂ اعراف جیسی طویل سورت مغرب میں پڑھنا تو وہ کبھی کبھار تھا۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 991]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:764
764. مروان بن حکم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے حضرت زید بن ثابت ؓ نے فرمایا: تو نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتیں (قصار) پڑھتا ہے جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں دو بڑی سورتوں میں سے زیادہ بڑی سورت پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:764]
حدیث حاشیہ:
(1)
دیگر روایات میں وضاحت ہے کہ مروان بن حکم اس وقت مدینے کا گورنر تھا اور اس نے نماز مغرب میں سورۂ اخلاص اور سورۂ کوثر پڑھیں۔
اس پر حضرت زید بن ثابت ؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے تنبیہ فرمائی۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 990)
روایت میں دو بڑی سورتوں میں سے بڑی سورت کی صراحت بھی ہے کہ وہ سورۂ اعراف ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 991)
نیز راوی نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورۂ اعراف پڑھی تھی، یعنی کچھ حصہ پہلی رکعت میں اور کچھ حصہ دوسری رکعت میں تلاوت فرمایا۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 992)
(2)
قرآنی سورتوں کی چھوٹی بڑی ہونے کے اعتبار سے چار اقسام ہیں:
٭سبع طوال:
سات لمبی سورتیں۔
اس سے مراد سورۂ بقرہ سے سورۂ توبہ تک سات سورتیں ہیں۔
واضح رہے کہ مضمون کے اعتبار سے سورۂ انفال اور سورۂ توبہ کو ایک ہی شمار کیا گیا ہے۔
٭مئین:
اس سے مراد وہ سورتیں ہیں جن کی آیات کم ازکم سویا اس سے زیادہ ہوں۔
یہ سورۂ یونس سے سورۂ طہ تک ہیں۔
٭مثانی:
وہ سورتیں جن کی آیات سو سے کم ہوں۔
یہ سورتیں سورۂ انبیاء سے سورۂ فتح تک ہیں۔
٭ مفصل:
اس سے مراد وہ سورتیں ہیں جن میں بکثرت بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ کے ذریعے سے فاصلہ آیا ہے۔
ان کی تین اقسام ہیں:
٭ طوال مفصل:
سورۂ ق سے سورۂ عم یتساءلون تک۔
٭ اوساط مفصل:
سورۂ نازعات سے سورۂ والضحیٰ تک۔
٭قصار مفصل:
سورۂ الم نشرح سے سورۂ ناس تک۔
(الإتقان في علوم القرآن للسیوطي،النوع الثامن عشر في جمعه وترتیبه: 1/199۔
203، طبع دار ابن کثیر)
عام طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ وہ نماز فجر میں طوال مفصل، عشاء میں اوساط مفصل اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے تھے۔
جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ایک حدیث میں ہے۔
(سنن النسائي، الصلاة، حدیث: 983)
لیکن امام کو اپنے مقتدی کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ اس کی قراءت ان کے لیے بار خاطر نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں متعدد انداز سے ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 764]