🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب النهي عن ذلك
باب: عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 82
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ يَعْنِي الطَّيَالِسِيَّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو وَهُوَ الْأَقْرَعُ،" أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ".
حکم بن عمرو یعنی اقرع سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 82]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطھارة 47 (64)، سنن النسائی/المیاہ 11 (344)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 34 (373)، (374) ولفظه: ’’عبدالله بن سرجس‘‘، (تحفة الأشراف: 3421)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/213، 5/66) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مرد اور عورت کے بچے ہوئے پانی سے پاکی حاصل کرنے کی ممانعت اور جواز سے متعلق روایات میں تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو اس پانی پر محمول کیا جائے جو اعضاء کو دھوتے وقت گرا ہو، اور جواز کی روایتوں کو اس پانی پر جو برتن میں بچا ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ ممانعت کی روایتوں کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (471)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحكم بن عمرو الغفاريصحابي
👤←👥سوادة بن عاصم العنزي، أبو حاجب
Newسوادة بن عاصم العنزي ← الحكم بن عمرو الغفاري
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← سوادة بن عاصم العنزي
ثقة
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عاصم الأحول
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← أبو داود الطيالسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
64
نهى أن يتوضأ الرجل بفضل طهور المرأة
سنن أبي داود
82
نهى أن يتوضأ الرجل بفضل طهور المرأة
سنن ابن ماجه
373
نهى أن يتوضأ الرجل بفضل وضوء المرأة
سنن النسائى الصغرى
344
أن يتوضأ الرجل بفضل وضوء المرأة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 82 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 82
فوائد و مسائل:
یہ نہی یا تو رخصت سے پہلے کی ہے یا احتیاط پر محمول ہے۔ تاہم کتاب العلل ترمذی میں ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے حکم بن عمرو اقرع کی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ اور صحیح تر وہی ہے جو پچھلے باب میں مذکور ہوا کہ عورت مرد ایک دوسرے کے استعمال شدہ اور بچے ہوئے پانی سے وضو اور غسل کر سکتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 82]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 344
عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت کا بیان۔
حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المياه/حدیث: 344]
344۔ اردو حاشیہ: دیکھیے سنن نسائی حدیث: 72، 233، 239 اور ان کے فوائد و مسائل:
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 344]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 64
عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان۔
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 64]
اردو حاشہ:
1؎:
اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے،
یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے،
اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں،
یا یہ ممانعت محمول ہوگی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ ماءِ مستعمل (استعمال ہواپانی) ہے۔

2؎:
مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 64]