سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. باب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: جو شخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ نَافِعٌ: أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ لِعُبَادَةَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ، قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا: إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا، وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ، فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ".
نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو (نماز میں) سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو؟“، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورۃ فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 824]
جناب نافع بن محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں تاخیر سے آئے تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہی اور نماز پڑھانا شروع کر دی۔ عبادہ رضی اللہ عنہ آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا، ہم نے ابونعیم کے پیچھے صف بنائی۔ ابونعیم جہری قراءت کر رہے تھے اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ فاتحہ پڑھنی شروع کر دی۔ جب وہ فارغ ہوئے، تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ سورۃ فاتحہ پڑھ رہے تھے حالانکہ (امام) ابونعیم جہری قراءت کر رہے تھے۔“ (سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراءت کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت میں الجھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو ہماری طرف چہرہ کیا اور فرمایا: ”کیا تم لوگ قراءت کرتے ہو، جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوتا ہوں؟“ ہم میں سے بعض نے کہا: ”ہم ایسا کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کیا کرو، میں کہہ رہا تھا مجھے کیا ہوا ہے کہ قرآن پڑھنے میں الجھن ہو رہی ہے، جب میں جہر سے پڑھ رہا ہوں تو قرآن سے کچھ نہ پڑھو، مگر ام القرآن (سورۃ فاتحہ)۔““ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 29 (921)، (تحفة الأشراف: 5116) (صحیح)» (اہل علم نے اس حدیث کے بارے میں لمبی چوڑی بحثیں کی ہیں، ملاحظہ ہو: تحقيق الكلام في وجوب القرائة خلف الإمام للعلامة عبدالرحمن المباركفوري، وإمام الكلام للشيخ عبدالحي اللكهنوي، و ضعيف أبي داود (9/ 318)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (854)
نافع بن محمود بن الربيع / ربيعة (المقدسي): وثقه الدار قطني والحاكم وابن حزم في المحلي وابن حبان في الثقات والبيهقي في القراءة خلف الامام والذھبي في الكاشف واخطا من جھله، ومكحول: بري من التدليس
مشكوة المصابيح (854)
نافع بن محمود بن الربيع / ربيعة (المقدسي): وثقه الدار قطني والحاكم وابن حزم في المحلي وابن حبان في الثقات والبيهقي في القراءة خلف الامام والذھبي في الكاشف واخطا من جھله، ومكحول: بري من التدليس
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
824
| ما لي ينازعني القرآن فلا تقرءوا بشيء من القرآن إذا جهرت إلا بأم القرآن |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 824 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 824
824. اردو حاشیہ:
یہ روایت سنن نسائی میں بھی آئی ہے دیکھئے: [سنن نسائي حديث 921]
اور دیگر صحیح روایات کی موئد ہے اور امام کے پیچھے فاتحہ کے علاوہ دیگر قراءت خاموشی سے سننی چاہیے۔
یہ روایت سنن نسائی میں بھی آئی ہے دیکھئے: [سنن نسائي حديث 921]
اور دیگر صحیح روایات کی موئد ہے اور امام کے پیچھے فاتحہ کے علاوہ دیگر قراءت خاموشی سے سننی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 824]
Sunan Abi Dawud Hadith 824 in Urdu
نافع بن محمود الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري