سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. باب مَنْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ فِي صَلاَتِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
باب: جو شخص نماز میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ:" أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ".
ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں نماز میں سورۃ فاتحہ اور جو سورۃ آسان ہو اسے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 818]
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم (نماز میں) فاتحہ اور جو میسر ہو (یعنی قرآن میں سے) پڑھا کریں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4377)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/45،97) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة عنعن وقال البخاري في جزء القراء ة (70) : ’’ ولم يذكر قتادة سماعًا من أبي نضرة في ھذا ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
إسناده ضعيف
قتادة عنعن وقال البخاري في جزء القراء ة (70) : ’’ ولم يذكر قتادة سماعًا من أبي نضرة في ھذا ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
حدیث نمبر: 819
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَصْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اخْرُجْ فَنَادِ فِي الْمَدِينَةِ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقُرْآنٍ وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم جاؤ اور مدینہ میں اعلان کر دو کہ نماز بغیر قرآن کے نہیں ہوتی، اگرچہ سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور ہی ہو“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 819]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اور مدینے میں اعلان کر دو کہ قرآن (کی قراءت) کے بغیر نماز نہیں، خواہ فاتحۃ الکتاب (سورۃ فاتحہ) ہو اور کچھ زیادہ، خواہ فاتحۃ الکتاب ہو اور کچھ زیادہ۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 819]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13619)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/428) (منکر)» (جعفر بن میمون ضعیف راوی ہیں، نیز ثقات کی مخالفت کی ہے)
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جعفر بن ميمون ضعفه الجمهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
إسناده ضعيف
جعفر بن ميمون ضعفه الجمهور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُنَادِيَ أَنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَمَا زَادَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں یہ اعلان کر دوں کہ سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھے بغیر نماز نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 820]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اعلان کر دوں کہ ”قراءتِ فاتحہ اور کچھ مزید کے بغیر نماز نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 820]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 13619) (صحیح)» (صحیح مسلم میں مروی عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں بھی جعفر بن میمون ہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(819)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق(819)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زَهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، غَيْرُ تَمَامٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی تو وہ ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں“۔ راوی ابوسائب کہتے ہیں: اس پر میں نے کہا: ابوہریرہ! کبھی کبھی میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں (تو کیا کروں!) تو انہوں نے میرا بازو دبایا اور کہا: اے فارسی! اسے اپنے جی میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز ۱؎ کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نصف نصف تقسیم کر دی ہے، اس کا نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ بھی ہے جو وہ مانگے“۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھو: بندہ «الحمد لله رب العالمين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل کہتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف کی، بندہ «الرحمن الرحيم» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری توصیف کی، بندہ «مالك يوم الدين» کہتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی، بندہ «إياك نعبد وإياك نستعين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے، پھر بندہ «اهدنا الصراط المستقيم * صراط الذين أنعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہتا ہے تو اللہ فرماتا ہے: یہ سب میرے بندے کے لیے ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ ہے جو وہ مانگے ۲؎“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 821]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں ام القرآن (سورۃ فاتحہ) نہ پڑھے تو ایسی نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، کامل نہیں ہے۔“ (ابو سائب نے کہا) میں نے کہا: ”اے ابوہریرہ! میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں۔“ تو انہوں نے میری کلائی دبائی اور کہا: ”اے فارسی! اسے اپنے نفس میں پڑھا کرو، بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان آدھے آدھ تقسیم کر دیا ہے، نصف میرے لیے ہے اور نصف میرے بندے کے لیے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا۔““ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پڑھا کرو۔ بندہ کہتا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» ﴿سورة الفاتحة: 2﴾ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری تعریف کی۔“ بندہ کہتا ہے: «الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ» ﴿سورة الفاتحة: 3﴾ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری ثنا کی۔“ بندہ کہتا ہے: «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» ﴿سورة الفاتحة: 4﴾ تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: ”میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی۔“ بندہ کہتا ہے: «إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ» ﴿سورة الفاتحة: 5﴾ (اللہ عزوجل فرماتا ہے): ”یہ میرے اور بندے کے مابین ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا۔“ بندہ کہتا ہے: «اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ» ﴿سورة الفاتحة: 6-7﴾ (اللہ عزوجل فرماتا ہے): ”سب میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو اس نے مانگا۔““ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 821]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 11 (395)، سنن الترمذی/تفسیر الفاتحة 2 (2953)، سنن النسائی/الافتتاح 23 (910)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 11 (838)، (تحفة الأشراف: 14935، 14045)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 9 (39)، مسند احمد (2/241، 250، 285، 290، 457، 487) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نماز سے مراد سورہ فاتحہ ہے، تعظیماً کل بول کر جزء مراد لیا گیا ہے۔
۲؎: جو لوگ بسم اللہ کو سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورۃ فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہئے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
۲؎: جو لوگ بسم اللہ کو سورۃ فاتحہ کا جزء نہیں مانتے ہیں اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بسم اللہ کے سورۃ فاتحہ کے جزء ہونے کی صورت میں اس حدیث میں اس کا بھی ذکر ہونا چاہئے جیسے اور ساری آیتوں کا ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (395)
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ السَّرْحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَصَاعِدًا". قَالَ سُفْيَانُ: لِمَنْ يُصَلِّي وَحْدَهُ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ اور کوئی اور سورت نہیں پڑھی ۱؎“۔ سفیان کہتے ہیں: یہ اس شخص کے لیے ہے جو تنہا نماز پڑھے ۲؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 822]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سورۃ فاتحہ اور کچھ مزید نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔“ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی شخص اکیلا پڑھ رہا ہو (تو یہ حکم ہے)۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 822]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 11 (394)، سنن النسائی/الافتتاح 24 (911) (وقد ورد بدون قولہ:’’فصاعداً‘‘ عند: صحیح البخاری/الأذان 95 (756)، سنن الترمذی/ الصلاة 69 (247)، 116 (312)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 11 (837)، (تحفة الأشراف: 5110)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/314، 321، 322)، سنن الدارمی/الصلاة 36 (1278) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ سورہ فاتحہ سے کم پر نماز جائز نہیں ہو گی، سورہ فاتحہ سے زائد قرات کے وجوب کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ ۲؎: خطابی کا کہنا ہے کہ یہ عام ہے بغیر کسی دلیل کے اس کی تخصیص جائز نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قوله فصاعدا وعند م فصاعدا
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (394)
حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كُنَّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَقَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ، قُلْنَا: نَعَمْ، هَذًّا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: لَا تَفْعَلُوا إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا".
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز فجر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ نے قرآت شروع کی تو وہ آپ پر دشوار ہو گئی، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”شاید تم لوگ اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو؟“، ہم نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں تو ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورۃ فاتحہ کے علاوہ کچھ مت پڑھا کرو، کیونکہ جو اسے نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 823]
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت شروع فرمائی مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھاری ہو گئی۔ (یعنی آپ اس میں رواں نہ رہ سکے) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ پڑھا کرو مگر فاتحہ، کیونکہ جو اسے (فاتحہ کو) نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 823]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی الصلاة 115 (311)، (تحفة الأشراف: 5111)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/313، 316، 322)، (حسن)» (ابن خزیمة نے اسے صحیح کہا ہے (3؍36- 37) ترمذی، دارقطنی اور بیہقی نے بھی حسن کہا ہے (2؍164) ابن حجر نے نتائج الافکار میں حسن کہا ہے)، ملاحظہ ہو: امام الکلام تالیف مولانا عبدالحی لکھنوی (277- 278)
وضاحت: ۱؎: جب اسے «هَذَّ يَهُذُّ» کا مصدر «هَذًّا» مانا جائے تو اس کے معنی پڑھنے والے کا ساتھ پکڑنے کے لئے جلدی جلدی پڑھنے کے ہوں گے، اور اگر «هذا» کو اسم اشارہ مانا جائے تو ترجمہ یوں کریں گے ”ایسا ہی ہے“۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (854)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (5/322)
مشكوة المصابيح (854)
محمد بن إسحاق صرح بالسماع عند أحمد (5/322)
حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ نَافِعٌ: أَبْطَأَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلَاةَ، فَصَلَّى أَبُو نُعَيْمٍ بِالنَّاسِ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قُلْتُ لِعُبَادَةَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ، قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يَجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا: إِنَّا نَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: فَلَا، وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنُ، فَلَا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلَّا بِأُمِّ الْقُرْآنِ".
نافع بن محمود بن ربیع انصاری کہتے ہیں کہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فجر میں تاخیر کی تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہہ کر خود لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کر دی، اتنے میں عبادہ آئے ان کے ساتھ میں بھی تھا، ہم لوگوں نے بھی ابونعیم کے پیچھے صف باندھ لی، ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، عبادہ سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے، جب ابونعیم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو (نماز میں) سورۃ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، حالانکہ ابونعیم بلند آواز سے قرآت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ہاں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی جس میں آپ زور سے قرآت کر رہے تھے، آپ کو قرآت میں التباس ہو گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: ”جب میں بلند آواز سے قرآت کرتا ہوں تو کیا تم لوگ بھی قرآت کرتے ہو؟“، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے کہا: ہاں، ہم ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب ایسا مت کرنا، جبھی میں کہتا تھا کہ کیا بات ہے کہ قرآن مجھ سے کوئی چھینے لیتا ہے تو جب میں بلند آواز سے قرآت کروں تو تم سوائے سورۃ فاتحہ کے قرآن میں سے کچھ نہ پڑھو“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 824]
جناب نافع بن محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فجر کی نماز میں تاخیر سے آئے تو ابونعیم مؤذن نے تکبیر کہی اور نماز پڑھانا شروع کر دی۔ عبادہ رضی اللہ عنہ آئے اور میں بھی آپ کے ساتھ تھا، ہم نے ابونعیم کے پیچھے صف بنائی۔ ابونعیم جہری قراءت کر رہے تھے اور سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے سورۃ فاتحہ پڑھنی شروع کر دی۔ جب وہ فارغ ہوئے، تو میں نے عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے آپ کو سنا ہے کہ آپ سورۃ فاتحہ پڑھ رہے تھے حالانکہ (امام) ابونعیم جہری قراءت کر رہے تھے۔“ (سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراءت کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت میں الجھ گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو ہماری طرف چہرہ کیا اور فرمایا: ”کیا تم لوگ قراءت کرتے ہو، جب میں اونچی آواز سے قراءت کر رہا ہوتا ہوں؟“ ہم میں سے بعض نے کہا: ”ہم ایسا کرتے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ کیا کرو، میں کہہ رہا تھا مجھے کیا ہوا ہے کہ قرآن پڑھنے میں الجھن ہو رہی ہے، جب میں جہر سے پڑھ رہا ہوں تو قرآن سے کچھ نہ پڑھو، مگر ام القرآن (سورۃ فاتحہ)۔““ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 824]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 29 (921)، (تحفة الأشراف: 5116) (صحیح)» (اہل علم نے اس حدیث کے بارے میں لمبی چوڑی بحثیں کی ہیں، ملاحظہ ہو: تحقيق الكلام في وجوب القرائة خلف الإمام للعلامة عبدالرحمن المباركفوري، وإمام الكلام للشيخ عبدالحي اللكهنوي، و ضعيف أبي داود (9/ 318)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (854)
نافع بن محمود بن الربيع / ربيعة (المقدسي): وثقه الدار قطني والحاكم وابن حزم في المحلي وابن حبان في الثقات والبيهقي في القراءة خلف الامام والذھبي في الكاشف واخطا من جھله، ومكحول: بري من التدليس
مشكوة المصابيح (854)
نافع بن محمود بن الربيع / ربيعة (المقدسي): وثقه الدار قطني والحاكم وابن حزم في المحلي وابن حبان في الثقات والبيهقي في القراءة خلف الامام والذھبي في الكاشف واخطا من جھله، ومكحول: بري من التدليس
حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ ابْنِ جَابِرٍ، وَسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عُبَادَةَ، نَحْوَ حَدِيثِ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالُوا: فَكَانَ مَكْحُولٌ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ سِرًّا. قَالَ مَكْحُولٌ: اقْرَأْ بِهَا فِيمَا جَهَرَ بِهِ الْإِمَامُ إِذَا قَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَكَتَ سِرًّا، فَإِنْ لَمْ يَسْكُتِ اقْرَأْ بِهَا قَبْلَهُ وَمَعَهُ وَبَعْدَهُ لَا تَتْرُكْهَا عَلَى كُلِّ حَالٍ.
اس طریق سے بھی عبادہ رضی اللہ عنہ سے ربیع بن سلیمان کی حدیث کی طرح روایت مروی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ مکحول مغرب، عشاء اور فجر میں ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ آہستہ سے پڑھتے تھے، مکحول کا بیان ہے: جب امام جہری نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھ کر سکتہ کرے، اس وقت آہستہ سے سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو اور اگر سکتہ نہ کرے تو اس سے پہلے یا اس کے ساتھ یا اس کے بعد پڑھ لیا کرو، کسی حال میں بھی ترک نہ کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 825]
مکحول رحمہ اللہ نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ کی (مذکورہ بالا) روایت کی مانند بیان کیا، (مکحول رحمہ اللہ کے تلامذہ نے) بیان کیا کہ ”جناب مکحول رحمہ اللہ مغرب، عشاء اور فجر کی نمازوں میں ہر رکعت میں سری طور پر سورہ فاتحہ پڑھا کرتے تھے۔“ مکحول رحمہ اللہ نے کہا: ”جب امام جہری قراءت کر رہا ہو اور سکتے کرے تو (اس اثناء میں) خاموشی سے فاتحہ پڑھ لو، اگر سکتے نہ کرے تو اس سے پہلے پڑھ لو یا اس کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاؤ یا اس کے بعد پڑھ لو، کسی حال میں چھوڑو نہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 825]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 5114) (ضعیف)» (مکحول نے عبادہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
إسناده ضعيف
الوليد بن مسلم مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42