🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
141. باب ما يجزئ الأمي والأعجمي من القراءة
باب: ان پڑھ (اُمّی) اور عجمی کے لیے کتنی قرآت کافی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَفِينَا الْأَعْرَابِيُّ وَالْأَعْجَمِيُّ، فَقَالَ:" اقْرَءُوا فَكُلٌّ حَسَنٌ، وَسَيَجِيءُ أَقْوَامٌ يُقِيمُونَهُ كَمَا يُقَامُ الْقِدْحُ يَتَعَجَّلُونَهُ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم لوگ قرآن پڑھ رہے تھے اور ہم میں بدوی بھی تھے اور عجمی بھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو سب ٹھیک ہے عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے (یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 830]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مجلس میں تشریف لائے جبکہ ہم قرآن پڑھ رہے تھے، ہم میں دیہاتی بھی تھے اور غیر عرب بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھے جاؤ، سب ہی بہتر ہے۔ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (قراءت قرآن کو) ایسے سیدھا کریں گے جیسے کہ تیر سیدھا کیا جاتا ہے۔ اس کا اجر (دنیا میں) جلد ہی لینا چاہیں گے اور (آخرت تک) مؤخر نہیں کریں گے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3013)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/357، 397) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2206)
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن المنكدر القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥حميد بن قيس الأعرج، أبو صفوان، أبو عبد الرحمن
Newحميد بن قيس الأعرج ← محمد بن المنكدر القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن عبد الله الطحان، أبو محمد، أبو الهيثم
Newخالد بن عبد الله الطحان ← حميد بن قيس الأعرج
ثقة ثبت
👤←👥وهبان بن بقية الواسطي، أبو محمد
Newوهبان بن بقية الواسطي ← خالد بن عبد الله الطحان
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
830
اقرءوا فكل حسن وسيجيء أقوام يقيمونه كما يقام القدح يتعجلونه ولا يتأجلونه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 830 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 830
830۔ اردو حاشیہ:
➊ قرآن کریم کو لحن عرب میں پڑھنا مستحب اور مطلو ب ہے اور اس میں اپنی سی کوشش اور محنت کرتے رہنا چاہیے کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ مگر بدوی اور عجمی لوگوں کے لئے عربی اسلو ب اور قواعد تجوید پر کماحقہ پورا اترنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے آپ نے مختلف طبقات کے لوگوں کی قرأت کی توثیق فرما کر امت پر آسانی اور احسان فرمایا ہے۔
➋ ایسے لوگوں کا پیدا ہو جانا جو قرأت قرآن کو ریا شہرت اور حطام دنیا (دنیوی ساز و سامان) جمع کرنے کا ذریعہ بنا لیں، آثار قیامت میں سے ہے۔
➌ ظاہر الفاظ کی تجوید میں مبالغہ اور آواز کے زیر و بم ہی کو قراءت جاننا اور مفہوم و معنی سے صرف نظر کر لینا ازحد معیو ب ہے۔
➍ تلاوت قرآن اور اس کے درس تدریس میں اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھنا واجب ہے۔
➎ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم «احق ما اخذتم عليه اجرا كتاب الله» سب سے عمدہ چیز جس پر تم اجر (عوض و اجرت) لے سکتے ہو اللہ کی کتاب ہے۔ [صحيح بخاري كتاب الا جارة باب 16]
اور مذکورہ بالا حدیث میں تطبیق یہ ہے کہ عظیمت، عوض نہ لینے میں ہے۔ تاہم امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ معلم اس سلسلے میں کوئی شرط نہ کرے، ویسے کچھ دیا جاوے تو قبول کر لے۔ جناب حسن بصری رحمہ اللہ نے اس سلسلے میں دس درہم ادا کیے۔ [حواله مذكور]
بہرحال مدرس اور داعی حضرات مجاہد کی طرح ہیں، اگر اعلائے کلمۃ اللہ کی نیت رکھتے ہوں اور عوض لیں تو ان شاء اللہ مباح ہے، کوئی جرم نہیں، لیکن اگرنیت محض مال کھانا ہو تو حرام ہے اور دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر اور کوئی خسارے کا سودا نہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 830]

Sunan Abi Dawud Hadith 830 in Urdu