سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب صَلاَةِ مَنْ لاَ يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حدیث نمبر: 856
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاضٍ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْمُثَنَّى،حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ السَّلَامَ، وَقَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ، فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ، ثُمَّ قَالَ: ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي، قَالَ:" إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا، ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا". قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" فَإِذَا فَعَلْتَ هَذَا، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُكَ وَمَا انْتَقَصْتَ مِنْ هَذَا شَيْئًا، فَإِنَّمَا انْتَقَصْتَهُ مِنْ صَلَاتِكَ، وَقَالَ فِيهِ: إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْبِغْ الْوُضُوءَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص اس نے نماز پڑھی پھر آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ، پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، وہ شخص واپس گیا اور پھر سے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، پھر آ کر سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلامتی ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی ہے“، یہاں تک کہ تین بار ایسا ہوا، پھر اس شخص نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں اس سے اچھی نماز پڑھنا نہیں جانتا تو آپ مجھے سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو (پہلے) تکبیر کہو، پھر جتنا قرآن بآسانی پڑھ سکتے ہو پڑھو، اس کے بعد اطمینان سے رکوع کرو، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ، اس کے بعد اطمینان سے سجدہ کرو، پھر اطمینان سے قعدہ میں بیٹھو، اسی طرح اپنی پوری نماز میں کرو“۔ قعنبی نے «عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة» کہا ہے اور اس کے اخیر میں یوں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اور اگر تم نے اس میں کچھ کم کیا تو اپنی نماز میں کم کیا“، اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو کامل وضو کرو“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 856]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے اور ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور سلام کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”جاؤ نماز پڑھو! تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ چنانچہ وہ گیا اور نماز پڑھی جیسے کہ (پہلے) پڑھی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ” «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ”اور تم پر بھی سلامتی ہو“، جاؤ نماز پڑھو! تم نے نماز نہیں پڑھی۔“ حتیٰ کہ اس نے تین بار ایسے ہی کیا۔ بالآخر اس نے کہا: ”قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے! میں اس سے عمدہ نہیں پڑھ سکتا، مجھے سکھا دیجیے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہو۔ پھر تمہارے لیے جو آسان ہو قرآن سے پڑھو۔ پھر رکوع کرو، حتیٰ کہ رکوع میں خوب اطمینان کر لو۔ پھر سر اٹھاؤ، حتیٰ کہ درست انداز میں کھڑے ہو جاؤ۔ پھر سجدہ کرو، حتیٰ کہ سجدے میں خوب اطمینان کر لو۔ پھر بیٹھو، حتیٰ کہ تسلی سے بیٹھ جاؤ اور پھر ایسے ہی پوری نماز میں کیا کرو۔“ قعنبی نے اسے بواسطہ سعید بن ابی سعید مقبری، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے تو اس کے آخر میں کہا ہے: ”اگر تم نے ایسے ہی کیا تو تمہاری نماز کامل ہو گی اور اگر اس میں کچھ کمی کی تو اپنی نماز میں کمی کی۔“ مزید اس روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اٹھو تو وضو کامل کرو۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 95 (757)، 122 (793)، والأیمان والنذور 15 (6251)، صحیح مسلم/الصلاة 11 (397)، سنن الترمذی/الصلاة 114 (302)، سنن النسائی/الافتتاح 7 (885)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 72 (1060)، (تحفة الأشراف: 12983، 14304)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/437) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے تعدیل ارکان کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (757) صحيح مسلم (397)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
856
| إذا قمت إلى الصلاة فكبر ثم اقرأ ما تيسر معك من القرآن ثم اركع حتى تطمئن راكعا ثم ارفع حتى تعتدل قائما ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا ثم اجلس حتى تطمئن جالسا ثم افعل ذلك في صلاتك كلها |
المعجم الصغير للطبراني |
321
| أن يصلي الرجل صلاة لا يتم ركوعها ولا سجودها |
Sunan Abi Dawud Hadith 856 in Urdu
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي