سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
152. باب تفريع أبواب الركوع والسجود وضع اليدين على الركبتين
باب: رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَال أَبُو دَاوُد وَاسْمُهُ وَقْدَان، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ فَعُدْتُ، فَقَالَ: لَا تَصْنَعْ هَذَا، فَإِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے (رکوع میں) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں کر لیے تو انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا، پھر میں نے دوبارہ ایسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: تم ایسا نہ کیا کرو کیونکہ پہلے ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 867]
جناب مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ابا جان (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی، اور میں نے اپنے ہاتھوں کو (رکوع) میں اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھا تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا، میں نے پھر ویسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: ”ایسے مت کرو، ہم (صحابہ رسول) یہ کیا کرتے تھے مگر ہمیں اس سے روک دیا گیا تھا اور حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا کریں-“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 118 (790)، صحیح مسلم/المساجد 5 (535)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (259)، سنن النسائی/الافتتاح 91(1033)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 17 (873)، تحفة الأشراف (3929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 181، 182)، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1341) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (790) صحيح مسلم (535)
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥مصعب بن سعد الزهري، أبو زرارة | ثقة | |
👤←👥وقدان العبدي، أبو يعفور وقدان العبدي ← مصعب بن سعد الزهري | ثقة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← وقدان العبدي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥حفص بن عمر الأزدي، أبو عمر حفص بن عمر الأزدي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة ثبت |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 867 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 867
867۔ اردو حاشیہ:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ کہنا ”ہمیں حکم دیا گیا۔“ یا ”ہمیں روک دیا گیا“ یہ سب مرفوع احادیث کے معنی میں آتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ایسی ہدایات دیتا۔
➊ رکوع میں تطبیق یعنی گھٹنوں کے درمیان ہاتھ دے کر کھڑے ہونا منسوخ عمل ہے، صرف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چند ایک صحابہ ہی اس پر عمل کرتے رہے تھے، جیسے کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ کہنا ”ہمیں حکم دیا گیا۔“ یا ”ہمیں روک دیا گیا“ یہ سب مرفوع احادیث کے معنی میں آتے ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اور کوئی نہ تھا جو انہیں ایسی ہدایات دیتا۔
➊ رکوع میں تطبیق یعنی گھٹنوں کے درمیان ہاتھ دے کر کھڑے ہونا منسوخ عمل ہے، صرف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چند ایک صحابہ ہی اس پر عمل کرتے رہے تھے، جیسے کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 867]
Sunan Abi Dawud Hadith 867 in Urdu
وقدان العبدي ← مصعب بن سعد الزهري