🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

152. بَابُ وَضْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ
باب: رکوع میں دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 867
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ قَال أَبُو دَاوُد وَاسْمُهُ وَقْدَان، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي فَجَعَلْتُ يَدَيَّ بَيْنَ رُكْبَتَيَّ، فَنَهَانِي عَنْ ذَلِكَ فَعُدْتُ، فَقَالَ: لَا تَصْنَعْ هَذَا، فَإِنَّا كُنَّا نَفْعَلُهُ فَنُهِينَا عَنْ ذَلِكَ، وَأُمِرْنَا أَنْ نَضَعَ أَيْدِيَنَا عَلَى الرُّكَبِ".
مصعب بن سعد کہتے ہیں میں نے اپنے والد کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے (رکوع میں) اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے بیچ میں کر لیے تو انہوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا، پھر میں نے دوبارہ ایسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: تم ایسا نہ کیا کرو کیونکہ پہلے ہم بھی ایسا ہی کرتے تھے، پھر ہم کو ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 867]
جناب مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے ابا جان (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پہلو میں نماز پڑھی، اور میں نے اپنے ہاتھوں کو (رکوع) میں اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھا تو انہوں نے مجھے اس سے منع فرمایا، میں نے پھر ویسے ہی کیا تو انہوں نے کہا: ایسے مت کرو، ہم (صحابہ رسول) یہ کیا کرتے تھے مگر ہمیں اس سے روک دیا گیا تھا اور حکم دیا گیا کہ ہم اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا کریں- [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 118 (790)، صحیح مسلم/المساجد 5 (535)، سنن الترمذی/الصلاة 80 (259)، سنن النسائی/الافتتاح 91(1033)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 17 (873)، تحفة الأشراف (3929)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 181، 182)، سنن الدارمی/الصلاة 68 (1341) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (790) صحيح مسلم (535)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 868
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:"إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَلْيَفْرِشْ ذِرَاعَيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ وَلْيُطَبِّقْ بَيْنَ كَفَّيْهِ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے دونوں بازؤوں کو اپنی رانوں پر بچھا لے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تطبیق کرے ۱؎، گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے اختلاف کو دیکھ رہا ہوں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 868]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب تم میں سے کوئی رکوع کرے، تو اپنے بازوؤں کو اپنی رانوں پر بچھا لیا کرے اور اپنی ہتھیلیوں کو ایک دوسری میں دے لیا کرے، گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں ایک دوسری کے اندر ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 868]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 5 (534)، سنن النسائی/المساجد 27 (720)، والإمامة 18 (800)، والتطبیق 1 (1030، 1031)، (تحفة الأشراف: 9165)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/414) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر انہیں دونوں رانوں کے بیچ میں رکھنے کو تطبیق کہتے ہیں، یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا، ممکن ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس کے منسوخ ہونے کا علم نہ ہوا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (534)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں