🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
157. باب أعضاء السجود
باب: اعضائے سجود کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 891
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ، عَنْ ابْنِ الْهَادِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ: وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ".
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء: چہرہ ۱؎، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم سجدہ کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 891]
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ بندہ جب سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: چہرہ، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 891]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 44 (491)، سنن الترمذی/الصلاة 91 (272)، سنن النسائی/التطبیق 41 (1095)، 46 (1100)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 19 (885)، (تحفة الأشراف: 5126)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/206) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چہرہ میں پیشانی اور ناک دونوں داخل ہیں سجدے میں پیشانی کا زمین پر لگنا ضروری ہے اس کے بغیر سجدے کا مفہوم پورے طور سے ادا نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (491)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥العباس بن عبد المطلب الهاشمي، أبو الفضلصحابي
👤←👥عامر بن سعد القرشي
Newعامر بن سعد القرشي ← العباس بن عبد المطلب الهاشمي
ثقة
👤←👥محمد بن إبراهيم القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن إبراهيم القرشي ← عامر بن سعد القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن الهاد الليثي، أبو عبد الله
Newيزيد بن الهاد الليثي ← محمد بن إبراهيم القرشي
ثقة مكثر
👤←👥بكر بن مضر القرشي، أبو محمد، أبو عبد الملك
Newبكر بن مضر القرشي ← يزيد بن الهاد الليثي
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← بكر بن مضر القرشي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1095
إذا سجد العبد سجد منه سبعة آراب وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه
سنن النسائى الصغرى
1100
إذا سجد العبد سجد معه سبعة آراب وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه
صحيح مسلم
1100
إذا سجد العبد سجد معه سبعة أطراف وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه
جامع الترمذي
272
إذا سجد العبد سجد معه سبعة آراب وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه
سنن أبي داود
891
إذا سجد العبد سجد معه سبعة آراب وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه
سنن ابن ماجه
885
إذا سجد العبد سجد معه سبعة آراب وجهه وكفاه وركبتاه وقدماه
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 891 کے فوائد و مسائل
حافظ عمران ايوب لاهوري حفظہ الله، سنن ابوداود 891
سجدے میں سات اعضاءزمین پر رکھنے کا حکم
➌ سجدے میں سات اعضاء یعنی پیشانی (اور ناک)، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں (کے سرے) زمین پر لگنے چاہیں: حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إذا سجد العبد سجد معه آراب: وجهه و كفاه ركبتاه و قدماه» جب آدمی سجدہ کرتا ہے تو اس کے سات اعضاء بھی سجدہ کرتے ہیں اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم۔
[مسلم: 491، كتاب الصلاة: باب أعضاء السجود والنهى عن كف الشعر......، أبو داود: 891، نسائي: 208/2، ابن ماجة: 775، أحمد: 206/1، ابن خزيمة: 6/1، ابن حبان: 1921]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پیشانی پر، یہ کہتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ناک کی طرف اشارہ کیا۔
[بخاري: 812، 815، كتاب الأذان: باب السجود على الأنف، مسلم: 230، أبو داود: 889، ترمذي: 273، نسائي: 208/2، ابن ماجة: 1040]
(البانیؒ) سجدے کے لیے پیشانی اور ناک دونوں کو ضروری قرار دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا: «لا صلاة لمن لا يمس أنفه الأرض ما يمس الحبين» اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس کے ناک نے اس طرح زمین کو نہ چھوا جیسے پیشانی نے چھوا ہے۔ یہ حدیث بخاری کی شرط پر صحیح ہے۔ [تمام المنة: ص / 170]
➍ دوران سجدہ ہاتھ زمین پر جبکہ کہنیاں زمین سے اٹھی ہونی چاہیں:
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إذا سجدت فضع كفيك وارفع مرفقيك»
جب تم سجدہ کرتے ہو تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو (زمین پر) رکھو اور اپنی دونوں کہنیوں کو (زمین سے) بلند رکھو۔
[مسلم: 494، كتاب الصلاة: باب الاعتدال فى السجود ....، أحمد: 283/4، ابن خزيمة: 656، بيهقي: 113/2]
➎ سجدے میں قدموں کی ایڑیاں ملی ہونی چاہیں۔ [حاكم: 228/1 ِ، ابن خزيمة: 654]
➏ سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کے سرے قبلہ رخ اور قدم کھڑے ہونے چاہیں۔ [بخاري: 828، كتاب الأذان: باب سنة الجلوس فى التشهد، أبو داود: 732]
➐ سجدے میں دونوں ہاتھ پہلووں سے دور ہوں۔ سینہ، پیٹ اور رانیں زمین سے اونچی ہوں۔ پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھیں۔ [صحيح: صحيح أبو داود: 670، كتاب الصلاة: باب افتتاح الصلاة، أبو داود: 730، 963]
➑ سجدے کی حالت میں ہاتھوں کی انگلیاں ملی ہونی چاہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ «إذا سجد ضم اصابعه» جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو اپنی انگلیاں ملا لیتے۔ [صحيح: حاكم: 244/1]
➒ بوقت ضرورت کسی کپڑے پر بھی سجدہ کیا جا سکتا ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے۔ جب ہم میں سے کسی کے لیے زمین پر پیشانی رکھنا مشکل ہو جاتا۔ «بسط ثوبه فسجد عليه» وہ اپنا کپڑا بچھاتا اور اس پر سجدہ کر لیتا۔ [بخارى: 385، كتاب الصلاة: باب السجود على الثوب فى شدة الحر، مسلم: 620، أبو داود: 660، ترمذى: 584، نسائي: 216/2، ابن ماجة: 1033]
واضح رہے کہ عورت کے لیے بھی سجدے کا یہی طریقہ ہے اس کے علاوہ کوئی خاص طریقہ عورت کے لیے کسی حدیث سے ثابت نہیں۔
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 425]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1095
اعضائے سجود کا بیان۔
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتوں اعضاء: اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے، اور دونوں پیر بھی سجدہ کرتے ہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1095]
1095۔ اردو حاشیہ: چہرے سے مراد، ناک سمیت پیشانی ہے جیسا کہ اگلی روایات سے واضح ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1095]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث885
نماز میں سجدے کا بیان۔
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ، اس کی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے اور دونوں قدم۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 885]
اردو حاشہ:
فائدہ:
سجدہ اللہ کے حضور بندے کی عاجزی کے اظہار کا سب سے افضل طریقہ ہے اس موقع پر جسم کے سات اعضاء زمین کوچھوتے ہیں گویا یہ سب اعضاء عملی طور پر عبودیت کا اظہار کر رہے ہیں۔
دل کے خشوع اور اعضاء کے زمین کوچھونے کا مجموعہ اصل سجدہ ہے۔
بندے کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا سجدہ زیادہ کامل ہو تاکہ اللہ کی زیادہ سے زیادہ خوشنودی حاصل ہوسکے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 885]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 272
سجدہ سات اعضاء پر کرنے کا بیان۔
عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات جوڑ بھی سجدہ کرتے ہیں: اس کا چہرہ ۱؎ اس کی دونوں ہتھیلیاں، اس کے دونوں گھٹنے اور اس کے دونوں قدم۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 272]
اردو حاشہ: 1؎:
اورچہرے میں پیشانی اورناک دونوں داخل ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 272]

Sunan Abi Dawud Hadith 891 in Urdu