الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
171. باب العمل في الصلاة
باب: نماز میں کون سا کام جائز اور درست ہے؟
حدیث نمبر: 922
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَهَذَا لَفْظُهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَحْمَدُ: يُصَلِّي وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقٌ فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ، قَالَ أَحْمَدُ: فَمَشَى، فَفَتَحَ لِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ". وَذَكَرَ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، دروازہ بند تھا تو میں آئی اور دروازہ کھلوانا چاہا تو آپ نے (حالت نماز میں) چل کر میرے لیے دروازہ کھولا اور مصلی (نماز کی جگہ) پر واپس لوٹ گئے ۱؎۔ اور عروہ نے ذکر کیا کہ آپ کے گھر کا دروازہ قبلہ کی سمت میں تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 922]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 304 (الجمعة 68)، (601) سنن النسائی/السھو 14 (1207)، (تحفة الأشراف: 16417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 183، 234) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے واسطے چلنا یا دروازہ کھولنا یا لاٹھی اٹھا کر سانپ بچھو مارنا، یا بچے کو گود میں اٹھا لینا پھر بٹھا دینا، ان سب اعمال سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (601) نسائي (1207)
الزھري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 46
إسناده ضعيف
ترمذي (601) نسائي (1207)
الزھري عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 46
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥برد بن سنان الشامي، أبو العلاء برد بن سنان الشامي ← محمد بن شهاب الزهري | صدوق رمي بالقدر | |
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل بشر بن المفضل الرقاشي ← برد بن سنان الشامي | ثقة ثبت | |
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن مسدد بن مسرهد الأسدي ← بشر بن المفضل الرقاشي | ثقة حافظ | |
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله أحمد بن حنبل الشيباني ← مسدد بن مسرهد الأسدي | ثقة حافظ فقيه حجة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
601
| يصلي في البيت والباب عليه مغلق فمشى حتى فتح لي ثم رجع إلى مكانه |
سنن أبي داود |
922
| يصلي والباب عليه مغلق فجئت فاستفتحت قال أحمد فمشى ففتح لي ثم رجع إلى مصلاه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 922 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 922
922۔ اردو حاشیہ:
یہ روایت سند اً ضعیف ہے، تاہم اگر دروازہ قبلہ رخ ہو اور چند قدم کے فاصلے پر ہو اور گھر میں کوئی جواب دینے والا بھی نہ ہو، تو چند قدم چل کر دروازہ کھول دینے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا بلکہ ایک تو یہ عمل قلیل ہے۔ دوسرے نمازی قبلے سے منحرف بھی نہیں ہوتا۔ تیسرے اس سے اس کا خشوع فی الصلاۃ بھی زیادہ متاثر نہیں ہو گا۔ «والله اعلم»
یہ روایت سند اً ضعیف ہے، تاہم اگر دروازہ قبلہ رخ ہو اور چند قدم کے فاصلے پر ہو اور گھر میں کوئی جواب دینے والا بھی نہ ہو، تو چند قدم چل کر دروازہ کھول دینے میں کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا بلکہ ایک تو یہ عمل قلیل ہے۔ دوسرے نمازی قبلے سے منحرف بھی نہیں ہوتا۔ تیسرے اس سے اس کا خشوع فی الصلاۃ بھی زیادہ متاثر نہیں ہو گا۔ «والله اعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 922]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 601
نفل نماز میں کس قدر چلنا اور کتنا کام کرنا جائز ہے؟
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں گھر آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 601]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں گھر آئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 601]
اردو حاشہ:
1؎:
سنت و نفل کے اندر اس طرح سے چلنا کہ قبلہ سے انحراف واقع نہ ہو جائز ہے۔
1؎:
سنت و نفل کے اندر اس طرح سے چلنا کہ قبلہ سے انحراف واقع نہ ہو جائز ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 601]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق