سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
184. باب التشهد
باب: تشہد (التحیات) کا بیان۔
حدیث نمبر: 971
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّشَهُّدِ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ". قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتَ فِيهَا" وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ: زِدْتُ فِيهَا" وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشہد کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ تشہد یہ ہے: «التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته» ”آداب بندگیاں، اور پاکیزہ صلاتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں“۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اس تشہد میں «وبركاته» اور «وحده لا شريك له» کا اضافہ میں نے کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 971]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وراجع: موطا امام مالک/الصلاة 13(53)، (تحفة الأشراف: 7396) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تشہد میں یہ دونوں اضافے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں ایسا ہرگز نہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی طرف سے ان کا اضافہ خود کر دیا ہو بلکہ آپ نے اپنے اس تشہد میں ان کا اضافہ ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر کیا ہے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں روایت کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
971
| التحيات لله الصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته قال قال ابن عمر زدت فيها وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله قال ابن عمر زدت فيها وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 971 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 971
971۔ اردو حاشیہ:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جن الفاظ کو اپنی طرف سے اضافہ قرار دیا ہے وہ بخاری مسلم میں مرفوع احادیث سے ثابت ہیں۔ دیکھئے: [صحيح بخاري۔ حديث 831۔ وصحيح مسلم حديث 402]
➋ اس تصریح میں ان حضرات کی امانت و دیانت کا اظہار ہے کہ جب تک کامل یقین نہ ہوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب نہ کرتے تھے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جن الفاظ کو اپنی طرف سے اضافہ قرار دیا ہے وہ بخاری مسلم میں مرفوع احادیث سے ثابت ہیں۔ دیکھئے: [صحيح بخاري۔ حديث 831۔ وصحيح مسلم حديث 402]
➋ اس تصریح میں ان حضرات کی امانت و دیانت کا اظہار ہے کہ جب تک کامل یقین نہ ہوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب نہ کرتے تھے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 971]
مجاهد بن جبر القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي