صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
651. (418) باب الصلاة فى النعلين
جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان،
حدیث نمبر: 1010
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَيْضًا، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ أَبُو مَسْلَمَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي فِي النَّعْلَيْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ"
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہن کر نماز پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا، ہاں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الصلاة على البسط/حدیث: 1010]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 386، 5850، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 555، وابن الجارود فى "المنتقى"، 193، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1010، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 774، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 853، والترمذي فى (جامعه) برقم: 400، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1417، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4321، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12158»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1010 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1010
فوائد:
➊ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ جوتوں اور موزوں سمیت نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ ان پر نجاست نہ لگی ہو اور اگر نجاست لگی ہو تو جوتوں اور موزوں میں نماز پڑھنا درست نہیں۔ [شرح النووي: 5/424]
➋ جوتا اتارنا ہو تو اس کے مختلف مقامات ہیں۔ اگر بائیں جانب نمازی نہ ہو تو جوتا بائیں جانب اتارا جائے اور اگر بائیں جانب نمازی ہو تو جوتا دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا مشروع ہے۔
➊ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ جوتوں اور موزوں سمیت نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ ان پر نجاست نہ لگی ہو اور اگر نجاست لگی ہو تو جوتوں اور موزوں میں نماز پڑھنا درست نہیں۔ [شرح النووي: 5/424]
➋ جوتا اتارنا ہو تو اس کے مختلف مقامات ہیں۔ اگر بائیں جانب نمازی نہ ہو تو جوتا بائیں جانب اتارا جائے اور اگر بائیں جانب نمازی ہو تو جوتا دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1010]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1010 in Urdu
سعيد بن يزيد الطاحي ← أنس بن مالك الأنصاري