🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
80. ‏(‏80‏)‏ باب ذكر الدليل على أن سقوط الذباب فى الماء لا ينجسه
اس بات کی دلیل کا بیان کہ مکّھی کا پانی میں گرنا اسے ناپاک نہیں کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q105
وَفِيهِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ لَا نَجَاسَةَ فِي الْأَحْيَاءِ، وَإِنْ كَانَ لَا يَجُوزُ أَكْلُ لَحْمِهِ، إِلَّا مَا خَصَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَلْبَ، وَكُلَّ مَا يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ الْكَلْبِ مِنَ السِّبَاعِ؛ إِذِ الذُّبَابُ لَا يُؤْكَلُ، وَهُوَ مِنَ الْخَبَائِثِ الَّتِي أَعْلَمَ اللَّهُ أَنَّ نَبِيَّهُ الْمُصْطَفَى يُحَرِّمُهَا فِي قَوْلِهِ‏:‏ ‏[‏وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ‏]‏ ‏[‏الْأَعْرَافِ‏:‏ 157‏]‏ وَقَدْ أَعْلَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ سُقُوطَ الذُّبَابِ فِي الْإِنَاءِ لَا يُنَجِّسُ مَا فِي الْإِنَاءِ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ لِأَمْرِهِ بِغَمْسِ الذُّبَابِ فِي الْإِنَاءِ إِذَا سَقَطَ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ الْمَاءُ أَقَلَّ مِنْ قُلَّتَيْنِ
اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ زندہ چیزوں میں پلیدی نہیں ہوتی، اگرچہ وہ ایسا جانور ہو جس کا گوشت کھانا جائز نہ ہو۔ سوائے اُس جانور کے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص کر دیا ہے جیسے کُتّا اور ہر وہ درندہ جس پر کُتّے کے اسم کا اطلاق ہوتا ہے۔ کیونکہ مکّھی کھائی نہیں جاتی اور وہ اُن ناپاک چیزوں میں سے ہے جن کے متعلق الله تعالی نے بیان فرمایا ہے کہ اس کا نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں حرام قرار دے گا، اپنے اس فرمان میں «‏‏‏‏وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ» ‏‏‏‏ [ سورة الأعراف ] وہ اُن کے لیے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو اُن پر حرام کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے کہ برتن میں مکّھی گرنے سے اُس میں موجود کھانا اور مشروب ناپاک نہیں ہوتا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکّھی کو برتن میں ڈبونے کا حکم دیا ہے جب وہ برتن میں گر جائے، اگر چہ پانی دو مٹکوں سے کم ہو۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: Q105]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 105
نا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، نا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الآخَرِ شِفَاءً، وَإِنَّهُ يُتَّقَى بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ، ثُمَّ لِيَنْتَزِعْهُ"
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کے برتن میں مکّھی گر جائے تو اُسے چاہیے کہ وہ مکّھی کو پوری طرح برتن میں ڈبوئے، پھر اُسے باہر نکال لے کیونکہ اُس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے پر میں شفا۔ اور وہ اُس پر سے اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 105]
تخریج الحدیث: صحيح بخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد
Newسعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري
صدوق حسن الحديث
👤←👥بشر بن المفضل الرقاشي، أبو إسماعيل
Newبشر بن المفضل الرقاشي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت
👤←👥زياد بن يحيى الحساني، أبو الخطاب
Newزياد بن يحيى الحساني ← بشر بن المفضل الرقاشي
ثقة