صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
676. (443) بَابُ ذِكْرِ الْأَخْبَارِ الْمَنْصُوصَةِ وَالدَّالَّةِ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ
ان احادیث کا بیان جو اس بات کی صریح نص و دلیل ہیں کہ نمازِ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 1069
ثنا أَيُّوبُ بْنُ إِسْحَاقَ، نَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ، أَوْ سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ:" فَرِيضَةٌ، فَقُلْتُ: أَوْ فَقِيلَ لَهُ: فَكَمِ الْفَرْضُ؟ قَالَ: خَمْسُ صَلَوَاتٍ، فَقِيلَ لَهُ: فَمَا تَقُولُ فِي الْوِتْرِ؟ قَالَ: فَرِيضَةٌ، فَقُلْتُ أَوْ فَقِيلَ لَهُ: أَنْتَ لا تُحْسِنُ الْحِسَابَ"
جناب عبدالوارث بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوحنیفہ سے پوچھا یا امام ابوحنیفہ سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا، تو اُنہوں نے فرمایا کہ وتر فرض ہے۔ تو میں نے کہا یا اُن سے کہا گیا، فرض نمازوں کی تعداد کتنی ہے؟ جواب دیا کہ پانچ نمازیں ہیں۔ تو اُن سے کہا گیا تو آپ وتر کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ فرض ہے - تو میں نے کہا یا اُن سے کہا گیا کہ آپ کو حساب کرنا نہیں آتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1069]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1069، وانفرد به المصنف من هذا الطريق»
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1069 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1069
فوائد:
یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وتر سنتِ مؤکدہ ہے اور وتر کے وجوب کے قائل امام ابوحنیفہ اس کے وجوب کی کوئی واضح اور پختہ دلیل نہیں رکھتے تھے۔
یہ روایت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وتر سنتِ مؤکدہ ہے اور وتر کے وجوب کے قائل امام ابوحنیفہ اس کے وجوب کی کوئی واضح اور پختہ دلیل نہیں رکھتے تھے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1069]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1069 in Urdu