🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
676. (443) باب ذكر الأخبار المنصوصة والدالة على أن الوتر ليس بفرض
ان احادیث کا بیان جو اس بات کی صریح نص و دلیل ہیں کہ نمازِ وتر فرض نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1068
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَانَ ، نَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ النَّجَّارِيِّ ، أَنَّهُ سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ عَنِ الْوِتْرِ، قَالَ:" أَمْرٌ حَسَنٌ جَمِيلٌ عَمِلَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مِنْ بَعْدِهِ، وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ فِي كِتَابِ الْكَبِيرُ أَخْبَارَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِعْلامِهِ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِ وَعَلَى أُمَّتِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، فَدَلَّتْ تِلْكَ الأَخْبَارُ عَلَى أَنَّ الْمُوجِبَ لِلْوِتْرِ فَرْضًا عَلَى الْعِبَادِ مُوجِبٌ عَلَيْهِمْ سِتَّ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ، وَهَذِهِ الْمَقَالَةُ خِلافُ أَخْبَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخِلافُ مَا يَفْهَمُهُ الْمُسْلِمُونَ، عَالِمُهُمْ وَجَاهِلُهُمْ وَخِلافُ مَا تَفْهَمُهُ النِّسَاءُ فِي الْخُدُورِ وَالصِّبْيَانُ فِي الْكَتَاتِيبِ، وَالْعَبِيدُ وَالإِمَاءُ، إِذْ جَمِيعُهُمْ يَعْلَمُونَ أَنَّ الْفَرْضَ مِنَ الصَّلاةِ خَمْسٌ لا سِتٌّ
جناب عبدالرحمان بن ابی عمرہ البخاری سے روایت ہے کہ اُنہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے وتر کے متعلق پوچھا تو اُنہوں نے فرمایا، بہت عمدہ اور اچھا کام ہے - نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد مسلمانوں نے اس پر عمل کیا ہے، اور یہ واجب نہیں ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ میں نے کتاب الکبیر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ فرامین بیان کیے ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمّت پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ تو ان روایات نے اس بات پر دلالت کی ہے کہ بندوں پر وتر کو واجب قرار دینے والا شخص، ان پر دن اور رات میں چھ نمازیں واجب قرار دیتا ہے - اور یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے خلاف ہے - مسلمانوں کے عالم اور جاہل جو سمجھتے ہیں، اس کے بھی خلاف ہے۔ پردہ نشین خواتین نے پردہ میں جو سمجھا، بچوں نے مکتب و مدرسہ میں جو سمجھا اور جو غلاموں اور لونڈیوں نے سمجھا اس کے خلاف ہے - کیونکہ یہ تمام لوگ جانتے ہیں کہ فرض نمازیں پانچ ہیں، چھ نہیں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1068]
تخریج الحدیث: اسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبادة بن الصامت الأنصاري، أبو الوليدصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري
Newعبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري
مختلف في صحبته
👤←👥جعفر بن عبد الله الأنصاري، أبو عبد الحميد
Newجعفر بن عبد الله الأنصاري ← عبد الرحمن بن أبي عمرة الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، أبو حفص، أبو الفضل
Newعبد الحميد بن جعفر الأنصاري ← جعفر بن عبد الله الأنصاري
ثقة
👤←👥عبد الله بن حمران القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن حمران القرشي ← عبد الحميد بن جعفر الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← عبد الله بن حمران القرشي
ثقة حافظ