صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
677. (444) باب ذكر دليل بأن الوتر ليس بفرض
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وتر فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 1070
نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، نَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَالْوِتْرَ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابِلَةِ اجْتَمَعْنَا فِي الْمَسْجِدِ وَرَجَوْنَا أَنْ يَخْرُجَ إِلَيْنَا، فَلَمْ نَزَلْ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَصْبَحْنَا، فَدَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَوْنَا أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْنَا فَتُصَلِّيَ بِنَا، فَقَالَ:" كَرِهْتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ"
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان المبارک میں آٹھ رکعت اور وتر پڑھایا۔ پھر آئندہ رات بھی ہم مسجد میں جمع ہو گئے اور اُمید کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائیں گے (اور نماز پڑھائیں گے) تو ہم مسجد ہی میں رہے حتیٰ کہ صبح ہو گئی ہم رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، ہمیں اُمید تھی کہ آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے پاس تشریف لائیں گے اور ہمیں نماز پڑھائیں گے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ ناپسند کیا کہ تم پر وتر فرض کردیے جائیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1070]
تخریج الحدیث: اسناده حسن
الرواة الحديث:
عيسى بن جارية الأنصاري ← جابر بن عبد الله الأنصاري